1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میاں چنوں بم دھماکہ، مرنے والوں کی تعداد ایک درجن ہو گئی

جنوبی پنجاب کے علاقے میاں چنوں کے نواحی گاؤں میں پیر کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد ایک درجن کے قریب پہنچ چکی ہے۔

default

حالیہ دنوں میں پاکستان بھر میں پے در پے بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے

اس دھماکے میں زخمی ہونے والے 60 سے زائد لوگوں کومیاں چنو ں، خانیوال اورملتان کے ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان ہسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھماکے سے زخمی ہونے والوں میں سے 12افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

ملتان کے ریجنل پولیس آفسر عارف اکرام نے بتایا کہ دھماکے والے گھر سے پولیس کو راکٹ لانچر، خود کش جیکٹس، دستی بم اور دھماکہ خیز مواد بھی ملا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ جائے واردات سے ملنے والے اجزاء کیمیائی تجزیے کے لئے بجھوا دئے گئے ہیں۔ اُن کے مطابق اس دھماکہ میں ملوث افراد کی گرفتار ی کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جنہوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ ملتان کے ریجنل پولیس آفسر نے گھر کے مالک ماسٹر ریاض کی گرفتاری کی تصدیق کر نے سے گریز کیا تاہم دیگر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسٹر ریاض کوگرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت بھی جائے حادثہ پر ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اس ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کئا جا رہا ہے۔

اگرچہ پولیس حکام کا اصرار ہے کہ یہ دھماکہ مکان میں موجود دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا ہے لیکن علاقے کے کئی مکین اس بات سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ کے وقت اس مکان کے قریب سے ایک گاڑی تیز رفتاری سے گزرتی دیکھی گئی ہے۔ جس سے یہ امکان ظاہر کیا جار ہا ہےکہ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص نے گھر کے باہر سے اس مکان کو دھماکہ سے اُڑا یا ہے۔

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر پنجاب اسمبلی اور ایک مذہبی و سیاسی تنظیم کے رہنما ڈاکٹر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ اس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ بعض عناصر ایسی وارداتوں کی آڑ میں جنوبی پنجاب میں فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کے منصوبہ پرکام کر رہے ہوں۔

میاں چنوں بم دھماکے کی وجہ کوئی بھی ہو لیکن عام لوگ اس بات پر متفق ہیں کے اس حادثہ میں مارے جانے والے معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار قانون نافذکرنے والے وہ ادار ے بھی ہیں جو اطلاعات کے با وجود اس علاقے میں اسلحہ کے انبار اکھٹا کر نے کی کو ششوں کو نہیں روک سکے اور اُنہوں نے اس علاقے میں ہونے والی پراسرار سر گرمیوں کا بھی بروقت نوٹس نہیں لیا۔

اس بم دھماکے بعد میاں چنوں اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سوگ کا سماں ہے۔ دھماکے کے نتیجہ میں ہونے والے جانی نقصان کے خلاف مقامی لوگوں کی طرف سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ پیر کی دوپہر احتجاجی مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔

ابھی تک اس بم دھماکہ کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ یہ دھماکہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب ذرائع ابلاغ میں جنوبی پنجاب میں انتہاپسندوں کی سر گرمیوں کے حوالہ سے خبریں گرد ش کر رہی ہیں۔ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم نے اس دھماکہ کہ مذمت کر تے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

رپورٹ : تنویر شہزاد، لاہور

ادارت : عاطف توقیر