1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار کے صدر کی من موہن سنگھ سے ملاقات

بھارت کے دورے پر گئے میانمار کے صدر تھین سین نے وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے، جب میانمار میں سیاسی اصلاحات کے اقدامات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

default

اصلاحات کے اظہار کے طور پر رواں ہفتے دو سو سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان بھی کیا ہے۔ بدھ کے روز بھارت کے دورے کا آغاز کرنے والے سابق جنرل اور موجودہ صدر تھین سین نے پہلے دو روز کے دوران مختلف بُدھ مذہبی مقامات کے دورے کیے۔ اس دورے کے حتمی مرحلے میں انہوں نے وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی۔

سین نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سیاسی اصلاحات کے اشارے دے کر اپنے ناقدین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی کا حالیہ اعلان انہی اصلاحات کی ایک کڑی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے فوجی حکومت اور سیاسی حریفوں کے خلاف سخت کارروائیوں کے تناظر میں ان اقدامات کو امید کی ایک کرن قرار دیا جا رہا ہے۔ تھین سین نے سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں اپوزیشن رہنما اور میانمار میں جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والے آنگ سان سوچی کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز بھی کیا۔

Myanmar Birma Politische Häftlinge werden freigelassen

میانمار میں حال ہی میں 200 سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا ہے

مبصرین کے مطابق گزشتہ ماہ میانمار کی حکومت نے عوامی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے چین کے تعاون سے بننے والے ایک بہت بڑے ڈیم کی بندش کا اعلان کر کے بھی عوام کو چین کے ساتھ تعلقات پر مقدم رکھنے کا عندیہ دیا۔

سن 1990ء کے وسط سے بھارت میانمار میں چینی اثر ورسوخ کو کم کرنے کے لیے ینگون حکومت کے ساتھ سلامتی اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ینگون حکومت ملکی ترقی میں چین کے ساتھ ساتھ بھارت کے کردار پر بھی تیار ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں میانمار میں عوام کے خلاف فوجی حکومت کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے مغربی اقوام نے جب بھی ینگون حکومت کو پابندیوں کا نشانہ بنایا، تو چین میانمار کے ساتھ تجارتی روابط اور تعاون میں پیش پیش رہا ہے۔ اسی لیے جنوب مشرقی ملک میانمار میں چینی اثر و رسوخ انتہائی زیادہ ہے، جس پر نئی دہلی حکومت کے خاصے تحفظات رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: حماد کیانی

DW.COM