میانمار کی سرحد کے قریب چار بھارتی پولیس افسران ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 15.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار کی سرحد کے قریب چار بھارتی پولیس افسران ہلاک

میانمار کی سرحد کے قریب خود کار ہتھیاروں سے مسلح باغیوں کے ایک حملے میں بھارت پولیس کے چار افسران ہلاک ہو گئے ہیں۔ باغیوں نے پولیس افسران پر گھات لگا کر حملہ ریاستی وزیر اعلیٰ کے دورے کے موقع پر کیا ہے۔

بھارت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں تین پولیس افسران زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایک ہائی وے پر موجود یہ پولیس افسران ریاستی وزیر اعلیٰ کے دورے کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات دیکھنے کے لیے وہاں موجود تھے۔

یہ حملہ منی پور کے لکچاؤ نامی علاقے میں کیا گیا، جو بھارت کے ہمسایہ ملک میانمار کی سرحد سے بالکل قریب ہے۔ اس حملے کے بعد منی پور کے وزیراعلیٰ اوکرم ایبوبی سنگھ نے اس علاقے کا اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی اوکرم ایبوبی سنگھ پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔ ان پر اس وقت فائرنگ کی گئی تھی، جب وہ ایک وفد کے ہمراہ اپنے ہیلی کاپٹر سے باہر نکل رہے تھے۔

Indien Sicherheitskräfte an der Grenze mit Pakistan (Getty Images/AFP/N. Nanu)

سرکاری فورسز باغیوں سے نبرد آزما ہیں

مقامی پولیس کے مطابق جمعرات کو گشت کرتی ہوئی پولیس پر جب رائفلوں سے حملہ کیا گیا، تو ایک افسر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا جبکہ دیگر تین پولیس اہلکار قریبی ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

اس حملے کے بعد ایک دوسرے مقام پر بھی پولیس پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک مزید پولیس افسر زخمی ہوا۔ پولیس کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری نیشنل سوشلسٹ کونسل  آف ناگالینڈ کے ایک دھڑے پر عائد کی گئی ہے۔ اس ریاست کے مسلح باغی مرکزی حکومت پر علاقے کے قدرتی ’وسائل لوٹنے‘ اور مقامی ترقی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی اور غریب ریاستوں میں سرگرم دیگر باغی گروپوں کے برعکس منی پور کے مرکزی باغی گروپ حکومت کے ساتھ فائر بندی کے مذاکرات سے انکار کرتے آ رہے ہیں۔

اپنی قدرتی خوبصورتی کے حوالے سے مشہور اس پہاڑی علاقے میں گزشتہ کئی عشروں سے باغی سرگرم ہیں۔