1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میانمار کا روہنگیا مسئلے کے حل کے لیے ’وقت اور جگہ‘ کا مطالبہ

میانمار کے نائب وزیر دفاع نے پیر تئیس جنوری کے روز عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انہیں روہنگیا مسلمانوں کے تنازعے کے حل کے لیے وقت دیا جائے کیوں کہ جہادی اس صورت حال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

میانمار کے ریئر ایڈمرل مینت نوے نے سنگاپور میں ایک سکیورٹی فورم میں اپنے خطاب میں کہا کہ اس کے ملک کی راکھین ریاست میں جاری پرتشدد واقعات سے حکومت پوری طرح آگاہ ہے اور اس سلسلے میں روہنگیا افراد کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد اور وہاں جنگی جرائم کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

گزشتہ برس اکتوبر سے میانمار کی فوج راکھین ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیے ہوئے ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس ریاست میں شدت پسندی کے خاتمے اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملوں کے مکمل انسداد کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اسی تناظر میں گزشتہ چند ماہ میں کم از کم 60 ہزار روہنگیا مسلمانوں نے سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے، جب کہ میانمار کی فوج پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ روہنگیا افراد کے خلاف تشدد، جنسی زیادتیوں اور قتل عام میں ملوث ہے۔

Myanmar Regierung weist Genozid-Vorwürfe an Rohingya zurück (picture alliance/dpa/Nyein Chan Naing)

تشدد سے بچنے کے لیے ہزاروں روہنگیا افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

میانمار کو ایک طویل عرصے سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف رویے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم میانمار کی زیادہ تر آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے اور وہ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے غیرقانونی طور پر میانمار میں داخل ہونے والے تارکین وطن تصور کرتی ہے۔ اسی تناظر میں میانمار میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں کے پاس کسی بھی ملک کی شناختی دستاویزات نہیں ہیں۔

ریئر ایڈمرل مینت نوے نے اپنے خطاب میں کہا، ’’حکومت عام شہریوں کے خلاف تشدد کی اجازت نہیں دیتی اور ایسے الزامات کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔‘‘

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ برائے اسٹریٹیجک اسٹیڈیز کے زیرانتظام منعقدہ فورم میں ریئر ایڈمرل مینت نوے نے یہ بات ملائیشیا کے وزیردفاع ہشام الدین حسین کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں کہی۔

ہشام الدین نے اس فورم میں واضح کیا کہ اگر میانمار نے اس معاملے کو درست انداز سے حل نہ کیا، تو ’اسلامک اسٹیٹ‘ جیسے جہادی گروپ اس کا فائدہ اٹھا کر جنوب مشرقی ایشیا میں ایک اہم ٹھکانہ قائم کر سکتے ہیں۔