1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میانمار پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں‘

میانمار کی جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی کی پارٹی نے مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ ینگون حکومت پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے برما کے عوام متاثر نہیں ہو رہے۔

default

آنگ سان سوچی

آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے کہا ہے کہ مغرب نے میانمار پر جو پابندیاں عائد کر رکھی ہے، ان سے عسکری حکومت متاثر ہوئی ہے اور وسیع تر سطح پر عوام پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

این ایل ڈی کے نائب چیئرمین ٹِن او نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے پابندیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس حوالے سے رپورٹ پیر کو جاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پابندیوں سے حکمران رہنما اور ان کے قریبی کاروباری افراد متاثر ہوتے ہیں، نہ کہ عوام۔‘

نوبل امن انعام یافتہ سوچی تقریباً 15برس قید یا نظر بندی میں رہیں اور انہیں حال ہی میں رہا کیا گیا ہے۔ فوجی حکومت نے انہیں گزشتہ برس کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک رکھا تھا۔ ان کی جماعت نے 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، تاہم انہیں کبھی اقتدار میں آنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

آنگ سان سوچی کو میانمار میں ’دی لیڈی‘ کہا جاتا ہے اور وہ آزادی کی ایک علامت رہی ہیں۔ وہ ینگون میں اپنے ہی گھر میں مقید رہیں، جہاں دو خاتون خدمت گار ان کے ساتھ موجود رہیں۔ تاہم انہیں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل نہیں تھی، جس کی وجہ سے بیرونی دُنیا سے ان کا رابطہ منقطع رہا۔

Myanmar Birma Karte Landkarte

میانمار میں گزشتہ کئی دہائیوں سے فوج برسراقتدار رہی ہے

میانمار میں 1962 سے فوج برسراقتدار رہی ہے۔ تاہم وہاں گزشتہ برس نومبر کے انتخابات کے بعد نئی پارلیمنٹ کا پہلا سیشن گزشتہ ہفتے ہوا، جس کے ساتھ ہی نیا آئین بھی مؤثر ہوگیا جبکہ عسکری حکومت کا باقاعدہ خاتمہ بھی ہوا۔

نومبر میں ہوئے انتخابات پر میانمار میں جمہوریت نوازوں اور مغربی حکومتوں نے تنقید کی تھی۔ ان انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات بھی لگائے گئے اور ان کے ذریعے فوج اپنے من پسند رہنما پارلیمنٹ میں لانے میں کامیاب رہی ہے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ میں ایک چوتھائی نشستیں انتخابی عمل سے پہلے ہی فوج کے لئے مختص کر دی گئی تھیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM