1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میانمار: ون تن رہا

میانمار میں پیٹرول اور دوسری اشیائے صرف کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا ایک سال آج مکمل ہو رہا ہے۔

default

انیس سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہونے والے رہنما ون تن

فوجی حکومت کے خلاف ان مظاہروں میں بدھ بھگشوؤں نے بھی حصہ لیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بہت کم عرصے میں ایک بڑی احتجاجی تحریک نے جنم لیا۔

میانمار میں فوجی حکومت کی جانب سے تحریک جمہوریت کو خونریز طریقے سے کچل دیئے جانےکے ایک برس بعد میانمار میں تقریبا انیس برس سے قید انناسی سالہ صحافی اورتحریک جمہوریت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ون تن کو رہا کر دیا گیا ہے۔ فوجی حکومت کے مطانق گزشتہ ایک برس میں رہا کئے جانے والے قیدیوں کی تعداد نو ہزار ہے۔ ون ٹن نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جمہوریت کے لئے لڑی جانے والی جنگ جاری رکھیں گے۔

ایک سال پہلے میانمار میں آسٹریلیا کے سفیر ڈیوس نے کہا تھا ’’ہمارے پاس غیر مصدقہ اطلاعات ہیں جن کے مطابق رنگون میں مظاہرین پر فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ میں نے کل شام کرفیو لگنے سے پہلے بعض لوگوں سے بات کی جنہوں نے اس کی تصدیق کی کہ سڑکوں سے اٹھائی جانے والی لاشوں کی تعداد سرکاری اطلاعات سے کہیں زیادہ ہیں۔‘‘

Myanmar, Birma, die Mönche protestieren weiter

اس تحریک میں بھکشو ؤ بھی پیش پیش ہیں

میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق موجودہ فوجی حکومت کی جانب سے رہا کئے جانے والے نو ہزار قیدیوں کو دو ہزار دس میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہو گی۔ تحریک آزادی کے خونریز ترین دن کے ایک برس مکمل ہونے پر سامنے آنے والی اس خبر پر بات کرتے ہوئے نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کے ترجمان نیان ون نے کہا کہ وہ اس خبر پر خوش ہیں کہ ون ٹن رہا ہو گئے ہیں ۔ مگر ان کے مطابق ابھی جمہورت کی اس تحریک میں شامل تین اور نمایاں رہنما قید ہی میں ہیں۔

میانمار کے ایک اخبار کے مطابق نو ہزار قیدیوں کو جیل میں اچھے سلوک کی وجہ سے رہا کر دیا گیا ہے تا کہ وہ دو ہزار دس میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے کر خطے کی بہتری کے لئے کام کرسکیں۔

میانمار کی فوجی حکومت کے مطابق دو ہزار دس کے انتخابات کثیر الجماعتی ہوں گے مگر ناقدین کا کہنا ہے انتخابات کو فوجی جرنیل اپنی طاقت کو جائز قرار دینے کے لئے استعمال کر یں گے۔

جمہوریت کی اس تحریک میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ بدھ مذہب کے بھکشوؤں کی شمولیت سے تحریک کو اور توانائی ملی۔برطانیہ کی تنظیم برما کیمپین یو کے کے برما کے امور کے ماہر مارک فارمانر نے ایک سال قبل ہی کہ دیا تھا۔ ’’فوجی حکومت کے لئے بھکشوؤں سے نمٹنا مشکل ہے کیونکہ یہ دوسرے شہریوں کو گرفتار کرنے اور اژیت دینے سے بلکل مختلف ہے۔ بھکشوؤں پر آسانی سے فائرنگ نہیں کی جاسکتی انہیں یوں آسانی سے جیل میں قید نہیں کیا جاسکتااور نہ ہی اذیتیں دی جا سکتی ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے خاص طور پر این ایل ڈی کی رہنما آونگ سوچی جو گزشتہ انیس سال سے قید ہیں انہیں فورا رہا کیا جائے۔