1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار میں سیلاب سے تباہی پھیلتی ہوئی، ہلاکتوں میں اضافہ

جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار (برما) میں شدید بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے متاثرہ علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

میانمار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں افراد گرجا گھروں اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ کیمپوں میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ امدادی کارکن متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ان کو اشیائے خور و نوش پہنچانے اور سیلابی علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے باہر نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک انسٹھ کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ڈھائی لاکھ سے زائد کسی نہ کسی طرح بارشوں اور سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ سینکڑوں مکانات منہدم ہو چکے ہیں، بجلی کا نظام تباہ ہوچکا ہے اور فصلیں برباد ہو چکی ہیں۔

میانمار میں مون سون کی بارشوں اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے سیلابوں سے مچنے والی تباہی اس قدر زیادہ ہے کہ میانمار کی حکومت کو بین الاقوامی امداد کی اپیل کرنا پڑ گئی۔ منگل کے روز اقوام متحدہ کے دفتر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ میانمار کی جانب سے ان کو اس ضمن میں باضابطہ درخواست مل چکی ہے۔

جب پہاڑیاں بہہ گئیں

چِن ریاست کا پہاڑی علاقہ ہکہ ابھی تک باقی ملک سے کٹا ہوا ہے۔ یہاں قریب چالیس ہزار افراد رہتے ہیں اور امدادی کارکن صرف ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں۔

مقامی امدادی کمیٹی کے رکن جیکب تھنگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اس علاقے میں پہاڑیوں پر موجود زمین بہہ گئی ہے، بعض جگہ تو پوری کی پوری پہاڑ ہی سرک گئی ہے۔‘‘ تھنگ کہتے ہیں کہ ساڑھے چھ ہزار کے قریب افراد کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور خوف کے باعث اپنے گھروں کو لوٹنا نہیں چاہتے۔

ان کا مزید کہنا تھا، ’’لوگ بہت خوف زدہ ہیں۔ شہر کی تقریباً ایک تہائی سڑکوں پر دراڑیں پڑ چکی ہیں، لہٰذا مزید ’لینڈ سلائیڈنگ‘ کا خدشہ ہے۔ لوگوں کو اس بات کی بھی فکر ہے کہ مزید بارشیں ہو سکتی ہیں۔‘‘

تھنگ کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لیے خوراک کی کمی تو نہیں تاہم بیماری اور وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے۔

امریکی امداد

ملائشیا میں جاری ایک علاقائی اجلاس میں شریک امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے میانمار میں پیش آنے والی تباہی پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی امداد کی پہلی کھیپ جلد متاثرہ افراد تک پہنچ جائے گی۔