1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار میں سیاسی قیدیوں کی رہائی پر بین الاقوامی ردعمل

میانمار کی طرف سے درجنوں سیاسی کا‍ رکنوں کی رہائی کے اعلان کے بعد دنیا کے مختلف رہنماؤں نے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ یورپی یونین نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

default

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے میانمار کی حکومت کی طرف سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو اصلاحاتی عمل کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک میں قید تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے واضح ہوتا ہے کہ میانمار حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں سنجیدہ ہے۔

دوسری جانب ایشیا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے میانمار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے لیے جدو جہد کرنے والے دو ہزار کے قریب کارکن ابھی بھی حکومتی قید میں ہیں۔ مقید کارکنوں میں صحافی، ڈاکٹرز، وکلاء اور جمہوریت کے حامی سیاسی کارکن شامل ہیں۔

Myanmar Birma Politische Häftlinge werden freigelassen

6300 سے زائد بوڑھے، بیمار اور اپاہج قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کیا گیا ہے

یورپی یونین نے تمام سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ میانمار کے سرکاری ٹیلی وژن پر منگل کو اعلان کیا گیا تھا کہ 6300 سے زائد بوڑھے، بیمار اور اپاہج قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کیا جا رہا ہے۔ سینئر امریکی سینیٹر جان کیری نے میانمار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے امید کی ایک نئی کرن سے تعبیر کیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس اقدام پر محتاط تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے مگر ابھی اس کے ردعمل میں واشنگٹن کے اقدامات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ فرانس نے کہا ہے کہ وہ میانمار میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فرانس کی وزارت خارجہ کے مطابق انہیں امید ہے کہ میانمار ایسے اقدامات جاری رکھے گا تاکہ اس کے بین الاقوامی برادی کے ساتھ تعلقات دوبارہ بحال ہو سکیں۔

امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا نے کہا ہے کہ میانمار پر عائد پابندیاں اٹھانے پر غور کرنے سے قبل ملک میں موجود 2,100 سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا ناگزیر ہے۔

میانمار کے موجودہ صدر تھین سین ویسے تو ریٹائرڈ جنرل ہیں مگر وہ نصف صدی میں ملک کے پہلے سویلین سربراہ مملکت ہیں اور انہوں نے بعض مثبت اقدامات کیے ہیں، جن میں نسلی اقلیتوں کو قومی دھارے میں زیادہ شامل کرنا، محدود تنقید کی اجازت دینا اور آنگ سان سوچی کی 15 سالہ نظر بندی ختم کرنا شامل ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM