1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میانمار میں سیاسی تبدیلی کے آثار

میانمار کے صدر نے سیاسی پارٹیوں سے متعلق ایک قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت باقاعدہ طور پر دوبارہ رجسٹر ہو سکے گی۔

default

گزشتہ برس جب میانمار میں دو دہائیوں بعد پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے تو مغربی ممالک نے ان کی شفافیت پر اعتراض کیا تھا تاہم ایک برس کے عرصے کے دوران ہی فوج نواز حکومت نے ملک میں کئی اصلاحاتی پروگرام شروع کر دیے، جن کی بدولت احساس ہونے لگا ہے کہ اس ملک میں تبدیلی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔

گزشتہ برس سات نومبر کو جب ملک میں انتخابات ہوئے تھے تو دھاندلیوں کے الزامات اور جمہوری رہنما آنگ سان سوچی پر پابندی کی وجہ سے ان انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ اس وقت انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرنے پر سوچی کی سیاسی جماعت نیشل لیگ فار ڈیموکریسی NLD کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

گزشتہ کچھ ماہ کے دوران فوج نے جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر سیاسی اصلاحات کا عمل شروع کیا اور جلد ہی ناقدین کی توجہ حاصل کرلی۔ میانمار سے متعلق امور کے ماہر آنگ نیانگ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’کسی بھی ملک میں جمہوری حکومت تبدیلی لاتی ہے، اس لیے ہم نے میانمار کے انتخابات کی حمایت کی تھی‘۔

Than Shwe, Führer der burmesischen Militärjunta

میانمار کے صدر تھان شوئے

تھائی لینڈ کے ایک تھنک ٹینک سے منسلک نیانگ نے مزید کہا کہ البتہ انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ ملک میں تبدیلی کا عمل اتنی جلدی شروع ہو جائے گا۔ مارچ میں اپنے فوجی عہدے سے الگ ہونے کے بعد صدر تھان شوئے نے کئی اہم سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا۔ انہوں نے ابھی حال ہی میں ایک ایسے متنازعہ ڈیم کی تعمیر روک کر مغربی ممالک کی توجہ حاصل کی، جو میانمار کے اہم اتحادی ملک چین کی طرف سے تیار کیا جا رہا تھا۔

آنگ سان سوچی نے میانمار میں تبدیلی کے اس خوشگوار عمل کو محتاط انداز میں خوش آئند قرار دیا ہے۔ تاہم سوچی نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ کیا صدر شوئے ملک میں سیاسی اصلاحات کے اپنے وعدوں کو نبھا سکیں گے یا نہیں۔

لگ بھگ پندرہ برس تک گھر پر نظر بند رہنے کے بعد گزشتہ برس نومبر میں آزاد ہونے والی نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو دوبارہ رجسٹر کروانے کے حوالے سے اپنے سیاسی ساتھیوں سے صلاح مشورہ کریں گی۔

NDL کے ترجمان نیان وین نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی صدر شوئے کی طرف سے سیاسی اصلاحات کی ستائش کرتی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو رجسٹر کرائے گی اور رواں برس کے اختتام پر منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM