1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار میں سوچی کی سیاسی پارٹی تحلیل

میانمار کی فوجی حکومت کی مخالف اور جمہوریت کی حامی ’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘ نئے انتخابی قوانین کی روشنی میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں تحلیل کر دی گئی ہے۔ تحلیل کی وجہ سوچی کی جماعت کا رجسٹریشن سے انکار تھا۔

default

نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی کے دفترکا گیٹ

میانمار یا سابقہ برما میں اگلے الیکشن میں شرکت کی خواہشمند جماعتوں کو رجسٹریشن کے لئے چھ مئی تک کی مہلت دی گئی تھی۔ نوبل انعام یافتہ مقید خاتون رہنما آنگ سان سوچی کی قومی لیگ برائے جمہوریت نے رواں سال کے انتخابات کے بائیکاٹ کے علاوہ پارٹی رجسٹریشن سے بھی انکار کردیا تھا۔ میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون یا رنگون میں پارٹی کے خستہ حال ہیڈ کوارٹرز کا جمعرات کے روز کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ پارٹی ورکروں کو دفتر کے اندر فائلز اکھٹے کرتے دیکھا گیا۔ جمعرات کی شام تک پارٹی کے صدر دفتر پر اُس کا جھنڈا آخری بار لہراتا دیکھا گیا تھا۔

اس نئی صورت حال کے بعد اب تحلیل ہونے والی سیاسی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی کے کارکن اور بچے کھچے لیڈران سیاسی میدان سے ہٹتے ہوئے سماجی اور ترقیاتی امور پر توجہ دینےکے خواہشمند ہیں۔

ینگون میں نظر بند خاتون لیڈر سوچی کی پارٹی کے مرکزی دفتر میں ایک نمایاں لیڈر پھیو پھیو تھن نے صحافیوں کو بتایا کہ پارٹی کی لیڈر کی ہدایت پر صدر دفتر سے جماعت کا ’سائن بورڈ‘ اور جھنڈا نہیں اتارا جائے گا۔ تھن کا مزید کہنا تھا:’’اب ہمارے پاس کوئی سیاسی دفتر تو نہیں ہو گا، لیکن ہماری جد و جہد ختم نہیں ہوئی ہے، ہمارے کئی ساتھی ابھی جیل میں ہیں، ہمارے لوگوں نے سیاسی سوچ کے ساتھ حکومت کے خلاف مزاحمت کی ہے۔‘‘

Aung San Suu Kyi Flash-Galerie

سوچی کی تصویر اور روتی ہوئی برمی خاتون: فائل فوٹو

نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کا پرانا اور بوسیدہ پارٹی ہیڈکوارٹرز آنگ سان سوچی کے جھیل کنارے گھر کے قریب ہی واقع ہے۔ جھیل کنارے اسی گھر ہی میں سوچی نے گزشتہ بیس برسوں میں سے چودہ سال نظر بندی میں گزارے ہیں۔ یہ جماعت سن 1988ء کی حکومت مخالف تحریک کا نتیجہ تھی۔ اس تحریک میں فوجی حکومت نے ہزاروں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اپنے قیام کے دو سال بعد ہونے والے انتخابات میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری کامیابی حاصل کی تھی، لیکن انتخابی نتائج کوفوجی حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

قومی لیگ برائے جمہوریت کے سرکردہ سینیئر رہنما وِن تِن نے ایک غیر ملکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اُن سمیت تمام کارکنوں کو پارٹی کے تحلیل ہونے کا کوئی صدمہ نہیں ہے، رجسٹریشن کے بعد وہ فوجی حکومت کے ہاتھ میں کھلونا نہیں بننا چاہتے تھے۔ وِن تِن حقوق انسانی کے بھی سرگرم کارکن ہیں۔ وہ اپنی اسی سال کی عمر میں کئی بار جیل کاٹ چکے ہیں۔ وِن تِن اور دوسرے لیڈروں کا خیال ہے کہ پارٹی کی تحلیل یا قانونی طور پر خاتمے سے سیاسی جدو جہد کا عمل ختم نہیں ہو جائے گا۔ اُن کے بقول فوجی حکومت کی طرح وہ بھی موجود رہیں گے اور ایسے حکومتی فیصلوں سے سیاسی نظریات کی موت واقع نہیں ہوتی۔

Aung San Suu Kyi Flash-Galerie

نوبل انعام یافتہ خاتون لیڈر سوچی کی نظر بندی کے تیرہ سال مکمل ہونے پر ایک احتجاج کے شرکاء: فائل فوٹو

نیشنل لیگ برائے جمہوریت کے لیڈروں کی جانب سے کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود بہت سارے کارکنوں کو اس تحلیل کا صدمہ لاحق ہے۔ بعض سیاسی لیڈروں نے متفقہ فیصلے پر سرخم کیا ہے۔

نئے حکومتی انتخابی قوانین کے تحت ہر پارٹی کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ ان قوانین کے تحت 1990 ءکے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ ان انتخابی قوانین کے خلاف نظر بند رہنما سوچی کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی ایک اپیل دائر کی گئی تھی لیکن وہ اپیل فوجی حکومت کے تابع سپریم کورٹ نے خارج کردی ہے۔ اس فیصلے پر عالمی برادری نے اپنی تشویش کا بھی اظہار کردیا ہے۔

میانمار کے پولیس سربراہ نے بھی میڈیا کو بتا دیا ہے کہ جمعہ سے نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی ایک رجسٹرڈ پارٹی نہیں ہو گی اور اس باعث وہ کسی دفتر کو رکھنے کی مجاز بھی نہیں ہو گی۔

دریں اثناء ماینمار کے کئی دوسرے سیاسی ورکروں اور کارکنوں کا خیال ہے کہ میدان خالی کرنے کے بجائے جرنیلوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انسانی حقوق اور جمہوری روایات کی بحالی ایک احسن فیصلہ ہوتا کیونکہ سوچی اور نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی میانمار کے سیاسی میدان میں ایک معتبر نام اور حوالہ ہیں۔ اب اس جماعت کی عدم موجودگی سے جمہوریت کی تحریک ایک بے نام گلی میں داخل ہو گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM