1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار میں جوش اور امید کی سائے تلے عام انتخابات

میانمار میں اتوار کے روز عوام نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان تاریخی انتخابات سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ عوام اقتدار پر فوجی گرفت کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

میانمار میں اتوار کے روز عوام نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان تاریخی انتخابات سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ عوام اقتدار پر فوجی گرفت کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

گزشتہ 25 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ نوبل امن انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی اپوزیشن جماعت بھرپور انداز سے ان انتخابات میں شریک ہوئی۔ مبصرین کے مطابق اپوزشین جماعت کو ان انتخابات میں نہایت آسانی سے کامیابی مل جائے گی۔ اس سے قبل صدر تھین سین کہہ چکے ہیں کہ انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، وہ اسے تسلیم کریں گے۔

گزشتہ نصف صدی سے میانمار براہ راست یا بالواسطہ طور پر فوجی آمریت کا شکار رہا ہے، تاہم ملک میں ان پہلے آزاد انتخابات میں 30 ملین اہل ووٹروں کو ملکی اقتدار میں فوج کے کردار پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔

اتوار کے روز اپنے سر پر مخصوص انداز میں پھول اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے آنگ سان سوچی نے بھی اپنی رہائش گاہ کے قریب ووٹ ڈالا۔ اس موقع پر سینکڑوں صحافیوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، تاہم وہ جلدی سے ووٹ ڈال کر صحافیوں سے کوئی بات کیے بغیر ہی اپنے گھر واپس لوٹ گئیں۔

Myanmar Wahlen 2015

آنگ سان سوچی نے بھی اپنی رہائش گاہ کے قریب اپنا ووٹ ڈالا

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بدھ مندروں، اسکولوں، حکومتی عمارات اور دیگر مقامات پر بنائے گئے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر عوام کی طویل قطاریں دکھائی دیں۔ انتخابی مبصرین کے مطابق میانمار میں پولنگ کا عمل پرامن رہا اور کسی بھی طرح کی کسی بڑی بے ضابطگی یا تشدد کو کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔

ڈی پی اے کے مطابق پولنگ ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا، جب کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپوزیشن جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے دفتر کے باہر جمع ہے۔ وہاں غیرسرکاری نتائج کو عوام تک پہنچانے کے لیے بڑی ٹی وی اسکرین بھی لگائی گئی ہے۔ ان انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان پیر کی صبح تک متوقع ہے۔

ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ان انتخابات میں گو کہ 90 جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، تاہم اصل مقابلہ آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی اور حکمران یونین سولیڈیریٹی ڈیویلپمنٹ پارٹی کے درمیان ہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسا بھی نہیں کہ ان انتخابات کے نتیجے میں گزشتہ پانچ دہائیوں سے فوجی آمریت دیکھنے والا یہ ملک اچانک ایک جموریت میں تبدیل ہو جائے گا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ان انتخابات میں چاہے کوئی بھی جماعت کامیاب ہو جائے، ملکی دستور کے مطابق پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں ملکی فوج ہی کے پاس رہیں گی۔