1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار ميں کريک ڈاؤن جاری، کم از کم چار سو روہنگيا مسلمان ہلاک

میانمار کی شمال مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری مبينہ ریاستی کریک ڈاؤن میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم چار سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے اعتبار سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن ملکی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔ ميانمار میں عسکریت پسند روہنگيا مسلمانوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے ایک ہفتے کے عرصے میں قریب 38 ہزار افراد سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیس چوکیوں اور ایک فوجی اڈے پر حملوں کے بعد پچھلے ہفتے جمعے کے روز اس کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے بعد متعدد علاقوں میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات تواتر سے آ رہی ہیں۔

Rohingya in Myanmar und Bangladesch (picture-alliance/dpa/M.Alam)

ان پرتشدد واقعات سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں

بنگلہ دیش کے ایک حکومتی عہدیدار کے مطابق 31 اگست تک سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہونے والے روہنگیا افراد کی تعداد 38 ہزار رہی۔

میانمار کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز ’شدت پسند دہشت گردوں‘ کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور عام شہریوں کو ’تحفظ‘ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا افراد کے مطابق سکیورٹی فورسز روہنگیا افراد کے قتل عام اور جنسی زیادتیوں کے واقعات میں ملوث ہیں اور انہیں مجبور کر رہی ہیں کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔

میانمار میں بسنے والے گیارہ لاکھ روہنگیا باشندے نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، جن پر مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مبصرین شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے ان واقعات اور روہنگیا افراد کے خلاف سکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن رکوانے میں ناکام رہی ہیں۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تین سو ستر عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو حکومتی عہدیدار اور 14 عام شہری بھی ان پرتشدد واقعات کی نذر ہو چکے ہیں۔