1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار: ممکنہ وزیر خزانہ کی جعلی ڈگری ایگزیکٹ کمپنی سے

میانمار کی پارلیمان نے نئی حکومت کے لیے کابینہ کے اٹھارہ وزراء کے ناموں کی توثیق کر دی ہے۔ ان میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سُوچی کے علاوہ ایک ایسے رکن پارلیمان بھی شامل ہیں جن کی ڈگری جعلی ہے۔

ان اٹھارہ ارکان پارلیمان کو کُل اکیس وزارتیں دی جائیں گی۔ پارلیمان نے ان کے ناموں کی توثیق تو کر دی ہے تاہم ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کس رکن کو کون سی وزارت کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنگ سان سوچی وزارت خارجہ کا قلمدان لینے کو فوقیت دیں گی۔ ممکنہ طور پر مقامی سیاستدان کیا وین کو ملکی وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا جائے گا جبکہ نامزدگی کے عمل کے دوران جانچ پڑتال سے یہ پتہ چلا ہے کہ ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری جعلی ہے۔

اڑسٹھ سالہ کیا وین نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے قبول کیا ہے کہ انہوں نے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بروکلین پارک یونیورسٹی سے حاصل کی تھی اور یہ جعلی یونیورسٹی پاکستان کی سافٹ ویئر کمپنی ایگزیکٹ نے قائم کر رکھی تھی۔

مقامی اخبار میانمار ٹائمز کو بدھ کے روز انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’اب مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ ایک جعلی یونیورسٹی تھی، اسی وجہ سے میں اب خود کو ڈاکٹر نہیں کہوں گا۔‘‘

ممکنہ طور پر وزیر تجارت تھن مینٹ کو بنایا جائے گا اور ان کی پی ایچ ڈگری کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس امریکی یونیورسٹی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے، اسے امریکی حکومت ایکریڈیشن کے معاملے کی وجہ سے بند کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں نے چھ برس آن لائن تعلیم حاصل کی ہے، جس کے بعد مجھے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ مجھے ابھی تک نہیں پتہ کہ اس یونیورسٹی کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے۔‘‘

ان کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ڈگریوں کے حوالے سے ایماندارانہ رویہ اختیار کیا ہے۔

نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت این ایل ڈی رواں ماہ کے اختتام تک اپنی حکومتی ذمہ داریاں سنبھال لے گی اور اس کے ساتھ ہی ملک میں عشروں پرانی فوجی حکمرانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔