1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار: لڑائی سے متاثرہ شہریوں کی گھروں کو واپسی

میانمار کے صوبے شان میں اتوار کی شب فوجی جنتا اور نسلی تعصب پسندوں کے مابین لڑائی کے دوران سے چین میں پناہ لینے والے ہزاروں افراد آج گھر لوٹ رہے ہیں۔

default

میانمار میں فوج اور تعصب پسندوں کے دومیان لڑائی سے عام شہری متاثر ہوئے

پیر کے روز ہزاروں باشندے میانمار میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ حکومت نے پرتشدد واقعات کی بنا پر میانمار کے صوبے شان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس صوبے میں امن و سلامتی کی صورتحال بحال کردی گئی ہے۔ لوٹنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حکومتی دعووں کے باجود انہیں پرتشدد واقعات کے دوبارہ شروع ہوجانے کا خدشہ ہے۔

اتوار کے روز میانمار کی فوجی جنتا کے ہزاروں اہلکاروں اور تعصب پسند گروہ کہلانے والے 700 کوکانگ باغیوں کے درمیان لڑائی میں 26 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر 30 ہزار سے زائد مقامی باشندے چین کے جنوب مغربی صوبے یونان میں نقل مکانی کر گئے تھے۔

Border Clash in Thailand

میانمار کے صوبے شان میں شہریوں کو پر تشدد واقعات ہونے کا خدشہ ہے

چین میں یونان صوبے کے حکومتی ترجمان لی ہوئی کا کہنا ہے : "میانمار حکومت نے سفارتی ذرائع کے ذریعے ان افراد کی واپسی کے لئے کہا ہے"۔ ترجمان لی ہوئی مزید کہتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ واپس جانا چاہتے ہیں اور اب تک ڈھائی ہزار سے زائد باشندے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق قریب 13 ہزار متاثرین کیمپوں میں جبکہ بقیہ دس سے بیس ہزار اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لئے ہوئے۔

میانمار کی حکومت کے دعووں کے برعکس خبر رساں ادارے DPA کا کہنا ہے کہ میانمار کے میڈیا کے مطابق لڑائی ابھی تک جاری ہے۔ شان ہیرلڈ ایجینسی کے مدیر کا اس حوالے سے کہنا ہے: "ہماری اطلاعات کے مطابق کوکانگ عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کی آوازیں ابھی تک سنیں جارہی ہیں‘‘۔

میانمار حکومت اس لڑائی کا ذمہ دار کوکانگ کے لیڈر پینگ جیاشینگ کو ٹھہرا رہی ہے جو حکومت کے مطابق اسلحہ سازی اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کی رائے میں اس لڑائی کی اصل وجہ میانمار کی فوجی جنتا اور کوکانگ کے درمیان مصالحت کی کمی ہے۔ فوجی جنتا کا ارادہ تھا کہ کوکانگ آرمی یا میانمار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو فوج کے زیرنگرانی سرحدوں کی حفاظت کے لئے مامور کردیا جائے تاہم کوکانگ نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔

کوکانگ ایسے درجنوں باغی گروہوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1989ء میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت انہیں خودمختاری کے علاوہ محدود ذاتی فوج اور معیشت کا اختیار دیا گیا تھا۔

رپورٹ: میرا جمال

ادارت: امجد علی