1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار: زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافہ، امدادی کام میں تیزی

گزشتہ روز ریکٹر اسکیل پر چھ اعشاریہ آٹھ شدّت کے زلزلے کے نیتجے میں میانمار میں اب تک کم از کم تہتر افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

default

ملک کے مشرقی حصّے میں آئے اس زلزلے کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں مکانات کے ذمیں بوس ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک73 افراد ہلاک اور 125 زخمی اور دو سو پچیس کے قریب مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

ان اعداد و شمار کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی ہے اور ان میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

Birma Myanmar Erdbeben im Shan-Staat an der Grenze zu Thailand und Laos

زلزلے کے جھٹکے علاقے کے دوسرے ملکوں میں بھی محسوس کیے گئے

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پرچھ اشاریہ آٹھ تھی اور اس کا مرکز تھائی لینڈ کے شہر چیانگ رائی سے 89 کلومیٹر شمال میں تھا۔ زلزلے کے مرکز سے 800 کلومیٹر جنوب میں واقع دارالحکومت بنکاک میں بھی عمارتیں لرز اٹھیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمومی طور پر خفیہ طریقوں سے معاملات کو نمٹانے والی میانمار کی حکومت زلزلہ زدگان کی امداد کے حوالے سے خاصا شفّاف طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہے۔ حکومت نے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیج دی ہے اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔

بچّوں سے متعلق کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’ورلڈ وژن‘ اور دیگر کئی فلاحی اور غیر سرکاری تنظیموں کو میانمار کی حکومت نے فوری امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ فوج کے زیرِ اثر میانمار کی حکومت نے سن دوہزار آٹھ میں نرگس نامی سمندری طوفان کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقومی تنظیموں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ نرگس طوفان کے باعث قریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے ایک خصوصی بیان میں میانمار میں آئے زلزلے اور اس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان پر رنج اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM