1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار روہنگیا مسلمانوں کو مظالم سے بچانے میں ناکام رہا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے دو خصوصی مشیروں نے کہا ہے کہ میانمار کی حکومت ملکی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلم اقلیت کو اس کے خلاف مظالم سے بچانے اور اس حوالے سے خود پر عائد ہونے والی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔

نیو یارک سے جمعرات انیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس عالمی ادارے کے ان دونوں خصوصی مشیروں نے اپنے مشترکہ طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ان دونوں عہدیداروں اور کئی دیگر شخصیات نے میانمار کی حکومت کو کئی بار یہ تنبیہ کی تھی کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوتی جا رہی تھی۔

روہنگیا مہاجر کی کہانی، چار دہائیوں بعد بھی پناہ گزین

روہنگیا مہاجرین: بنگلہ دیشی بھارتی سرحد کی نگرانی میں اضافہ

بنگلہ دیشی کیمپ میں چار روہنگیا ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے

اقوام متحدہ کے ان دو مشیروں میں سے ایک آڈاما ڈینگ ہیں، جو نسل کشی کی روک تھام کے لیے اس عالمی ادارے کے خصوصی مشیر ہیں جبکہ دوسرے ایوان سیمینووچ ہیں، جو تحفظ سے متعلق ذمے داریوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر ہیں۔

ان دونوں سرکردہ شخصیات نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ میانمار حکومت کو تنبیہ کر دی گئی تھی کہ اس پر اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں روہنگیا مسلم آبادی کو مظالم سے بچانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت جو بڑی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں، وہ پوری نہیں کی جا رہی تھیں۔

Bangladesch Rohingya fliehen aus Myanmar

اب تک نصف ملین سے زائد روہنگیا مہاجرین میانمار سے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں

اس بیان کے مطابق راکھین میں روہنگیا مسلم برادری پر مظالم اور خونریزی کی لہر کے باعث جو بحران پیدا ہوا، اس پر بین الاقوامی ردعمل بھی ایک اجتماعی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ آڈاما ڈینگ اور ایوان سیمینووچ نے کہا، ’’روہنگیا برادری پر مظالم کی روک تھام کے سلسلے میں بین الاقوامی برادری بھی اتنی ہی بری طرح ناکام ہو گئی، جتنا کہ میانمار کی حکومت۔‘‘

جنسی حملوں کے شکار روہنگیا بچے بنگلہ دیش پہنچ کر بھی خوف زدہ

بنگلہ دیش میں دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ، ’منصوبہ خطرناک‘

روہنگیا افراد کا ’ڈراؤنا خواب‘ ختم کیا جائے، گوٹیرش

میانمار کی ریاست راکھین سے، جس کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں، وہاں اگست کے اواخر میں مسلح حملوں اور کریک ڈاؤن کی صورت میں دوبارہ شروع ہو جانے والی خونریزی کی موجودہ لہر کے دوران پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے راکھین میں اس خونریزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے روہنگیا برادری کی ’نسلی تطہیر‘ بھی قرار دیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی عالمی ادارے کی سلامتی کونسل میانمار سے یہ مطالبہ بھی کر چکی ہے کہ ملکی فوج راکھین میں اپنا کریک ڈاؤن بند کرے اور بین الاقوامی امدادی کارکنوں کو اس ریاست تک رسائی بھی دی جائے تاکہ لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ویڈیو دیکھیے 00:45

ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا کی بنگلہ دیش آمد کا سلسلہ جاری

DW.COM

Audios and videos on the topic