1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمار: راکھین میں اسکول دوبارہ کھول دیے گئے

میانمار کی حکومت نے شورش زدہ ریاست راکھین میں بچوں کے اسکولوں کو کھول دیا ہے۔ مقامی میڈیا نے اس پیشرفت کو تشدد کے خاتمے کی ایک علامت قرار دیا ہے۔ تاہم تشدد کا شکار ہونے والے روہنگیا کی مہاجرت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میانمار کی ریاست راکھین میں حالیہ نسلی تشدد کے نتیجے میں بہت زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کے حوالے سے ملکی حکومت نے کہا ہے کہ وہاں حالات مستحکم ہو گئے ہیں  اور اس لیے وہاں اسکول کھول دیے گئے ہیں۔

میانمار کی حکومت کے مطابق روہنگیا عسکریت پسندوں نے 25 اگست کو ملکی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کیے تھے جس کے بعد ملکی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس کریک ڈاؤن کو روہنگیا مسلمانوں کی ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دیا ہے۔ عالمی برداری میانمار پر زور دے رہی ہے کہ روہنگیا کے خلاف جاری کریک ڈاؤن روک دیا جائے۔

اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ریاست راکھین میں مقیم روہنگیا کمیونٹی کی تقریباﹰ نصف آبادی گھر بار چھوڑ کر ہمسایہ ریاست بنگلہ دیش مہاجرت کر چکی ہے۔ جبکہ اس دوران سینکڑوں روہنگیا مارے جا چکے ہیں۔

میانمار کے اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار کی آج اتوار کی اشاعت میں میانمار کے  محکمہٴ تعلیم کے حوالے سے لکھا ہے کہ ماؤنگ ڈا اور بوتھی ڈاؤنگ نامی علاقوں میں ’’استحکام لوٹنے کے بعد‘‘ وہاں اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ راکھین کے ایجوکیشن حکام کے مطابق اُن علاقوں کے اسکول تو محفوظ ہیں جہاں بودھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت آباد ہے تاہم  سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے باعث ’’بنگالی دیہات میں موجود اسکولوں‘‘ کے بارے میں ابھی حکام کو سوچنا ہو گا۔

میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو نہ تو نسلی اقلیت تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی انہیں اپنے ملک کا شہری۔ اسی باعث انہیں بنگالی کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔

Rohingya-Flüchtlinge in Bangladesch

فوجی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ریاست راکھین میں مقیم روہنگیا کمیونٹی کی تقریباﹰ نصف آبادی گھر بار چھوڑ کر ہمسایہ ریاست بنگلہ دیش مہاجرت کر چکی ہے

پیر دو اکتوبر کو اقوام متحدہ کے نمائندے، امدادی تنظیموں اور سفارت کاروں کے ساتھ ریاست رکھین کا دورہ کریں گے۔ تشدد کی لہر شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندوں کی طرف سے اس علاقے کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔ یاد رہے کہ میانمار کی حکومت نے موسم کا بہانہ بناتے ہوئے اس دورے کو مؤخر کر دیا تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات