1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

میانمار، جمہوری حکومت مسائل کا حل یا خود شکار

میانمار میں انتخابات سے قبل معاشی ترقی اور کاروبار موافق اصلاحات کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آنے والی سویلین حکومت کے دور میں وہاں چھوٹے بڑے کاروباری طبقے کی مشکلات آسمانوں کو چھونے لگی ہیں۔

default

فوجی حکومت سے برسوں بعد نجات حاصل کرنے والے شہریوں کو امید تھی کہ سیاسی حکومت کے دور میں ان کے مسائل میں یقیناﹰ کمی آئے گی، تاہم مچھلیوں کی برآمد کرنے والے ٹِم میونگ کی کاروباری حالت اس جمہوری حکومت کے دور میں نادہندگی تک پہنچ گئی ہے۔

میانمار کی کرنسی kyat کی قدر میں گزشتہ ایک برس میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کسی بھی دوسرے ایشیائی ملک کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملک میں کرنسی کے قدر میں بڑھوتی سمیت افراط زر کی شرح میں تیز ترین اضافے نے ٹم میونگ سمیت کارروباری طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

برآمدکندگان کے مطابق گزشتہ برس ایک ڈالر کے مقابلے میں kyat کی قدر ایک ہزار تھا، جو اب بلیک مارکیٹ میں 785 ہو چکی ہے۔ میونگ کے مطابق، ’ہم ایک صدمے اور دھچکے سے گزر رہے ہیں۔ ہم ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں اپنا تمام تر سامان کم قیمت میں مقامی منڈی میں فروخت کرنا پڑا۔ اس سے ہمارے کاروبار پر انتہائی منفی اثر پڑا ہے۔‘‘

GMF Klick Fotowettbewerb 2011 KLICK

میانمار میں مہنگائی میں واضح اضافہ ہوا ہے

میانمار میں چار ماہ پرانی جمہوری حکومت کے لیے اشیائے صرف اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ مقامی کرنسی کی قدر میں کمی سب سے اہم چیلینجز قرار دیے جا رہے ہیں۔ میانمار میں عمومی عوامی رائے یہی ہے کہ نئی جمہوری حکومت اس بابت مناسب توجہ نہیں دے رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عوامی قیاس آرائیاں اس جمہوری حکومت کے گرنے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

روئٹرز کے مطابق میانمار میں برسوں براہ راست اور اب بالواسطہ حکومت کرنے والی فوج کے خلاف بھی اشیائے خوردونوش اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سن 1988ء اور سن 2007ء میں خونریز عوامی مظاہرے ہوئے تھے، تاہم فوج نے یہ احتجاج بزور طاقت دبا دیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایسی ہی کوئی تحریک جمہوری حکومت کے خلاف شروع ہوئی، تو شاید اسے دبانا جمہوری حکومت کے بس کی بات نہ ہو۔

رواں ہفتے حکومت کی جانب سے برآمدی ٹیکس کو 10 فیصد سے کم کر کے سات فیصد کیا گیا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ’تاخیر سے اٹھایا جانے والا معمولی‘ قدم ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ میانمار جمہوری حکومت اور فوجی اقتدار کے درمیان ایک ’حساس سنگم‘ پر ہے۔ انہوں نے یہ بات انڈونیشیا میں ہونے والے ایشیائی سکیورٹی فورم میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کو ٹھوس اقدامات کر کے اصلاحات کے بین الاقوامی مطالبات پر عمل کرنا ہو گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM