1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

میانمار تنازعہ: ہزاروں مہاجرین پناہ کے لیے چین پہنچ گئے

میانمار میں ایک باغی مسلح گروہ اور حکومتی دستوں کے درمیان لڑائی چھڑنے کے بعد سے سرحد کے اُس پار جنوب مغربی  چین کے صوبے یونان میں ایک مہاجر قائم کیمپ قائم ہوا ہے جو روز بروز پھیلتا چلا جا رہا ہے۔

Bildergalerie China Myanmar Konflikt (picture-alliance/dpa)

چینی حکام کے مطابق میانمار کی ریاست شان میں کوکانگ کے علاقے سے قریب چینی شہر بیس ہزار سے زائد افراد کو پناہ فراہم کر رہا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیمپ میں موجود امدادی کارکنوں اور ہجرت کر کے آنے والے بے گھر افراد نے ایسے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس بار شروع ہونے والا  تنازعہ سن 2015 کے اوائل میں چین کی سرحد کے ساتھ میانمار کے شمال مشرقی علاقےکوکانگ  میں اٹھنے والے تنازعے سے زیادہ پر تشدد اور طویل ثابت ہو سکتا ہے۔

کوکانگ سے آنے والے ہان نسل چینی مہاجرین کی اکثریت والے اس کیمپ میں امدادی کام کی نگرانی کرنے والے ایک مینیجر نے روئٹرز کو بتایا،’’کیمپ میں آنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ہم تب تک اِن کی دیکھ بھال کریں گے جب تک یہ واپس جانے کا فیصلہ نہیں کرتے۔‘‘

 چینی حکام کے اندازے کے مطابق میانمار کی ریاست شان میں کوکانگ کے علاقے سے قریب یہ سرحدی چینی شہر بیس ہزار سے زائد افراد کو پناہ فراہم کر رہا ہے۔ میانمار میں شروع ہونے والا حالیہ تنازعہ ملکی رہنما آنگ سان سوچی کی اُن کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے جو وہ میانمار کی نسلی اقلیتوں کے ساتھ جامع امن  معاہدے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کوکانگ کے چین سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کی اکثریت چینی نسل سے ہے  جو ایک طرح کی چینی بولی بولتے ہیں اور چینی کرنسی یوآن استعمال کرتے ہیں۔

میانمار جسے پہلے برما کہا جاتا تھا، ایک کثیر القومی ریاست ہے۔ اس ملک میں ایک سو تیس سے زائد نسلی گروپ بھی موجود ہیں۔ سن انیس سو اڑتالیس میں آزادی کے بعد سے اس ملک کو اپنی سرحدوں پر مختلف تنازعات کا سامنا ہے۔ کوکانگ، کیرن، کاشین، شان اور مون میانمار کے اہم نسلی اقلیتی گروپ ہیں۔ ان سب باغی گروپوں نے اپنے مسلح لشکر بنا رکھے ہیں، جو کئی دہائیوں سے برما کی مرکزی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM