1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میانمارمیں نئے قوانین 'منصفانہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹ'

میانمار کی فوجی حکومت کی طرف سے اسی برس ہونے والے انتخابات کے لئے پانچ نئے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں۔ ناقدین کی نظر میں یہ قوانین اسی برس ہونے والے انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

default

ان پانچ میں سے ایک قانون کی تفصیلات ریاستی میڈیا پر جاری کر دی گئی ہیں جبکہ باقی قوانین سے متعلق تفصیلات اسی ہفتے متوقع ہیں۔ Union Election Commission Law نامی اس قانون کے مطابق فوجی حکومت انتخابات کی نگرانی کے لئے الیکشن کمیشن قائم کرے گی۔ یہ کمیشن گزشتہ بیس برس کے دوران پہلی مرتبہ ہونے والے انتخابات کی نگرانی کرے گا۔ تاہم قانون کے مطابق یہ کمیشن پانچ ایسے افراد پر مشتمل باڈی کی زیر نگرانی کام کرے گا جو حکومت کی نظر میں "محترم اور معزز" ہوں اور وہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے کی بجائے ریاست کے وفادار ہوں۔ قانون کے مطابق انتخابات سے متعلق کسی بھی معاملے پر اس کمیشن کی بات حرف آخر ہوگی۔

Birma Aung San Suu Kyi

میانمار میں اپوزیشن جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی رہنما آنگ سان سوچی اس وقت بھی 18 ماہ کی نظربندی کاٹ رہی ہیں۔

نئے قانون کی رو سے میانمار کی اپوزیشن جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی NLD کو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے 60 دنوں کے اندر اند ر خود کو رجسٹر کرانا ہوگا۔ بصورت دیگر یہ جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے پائے گی۔

ایک حکومتی اہلکار کے مطابق سابقہ قانون کے تحت رجسٹر شدہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس نئے قانون کے اطلاق کے دو ماہ کے اندر اندر دوبارہ سے اپنی رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ ناکامی کی صورت میں ایسی تمام جماعتیں خود بخود غیر قانونی قرار پائیں گی اور انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت سے محروم ہوجائیں گی۔

Proteste Aung San Suu Kyi Freilassung

NLD سمیت حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اورکئی ممالک کی جانب سے سوچی کی رہائی کے مسلسل مطالبے کئے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل 1990ء میں ہونے والے انتخابات میں آنگ سان سُوچی کی جماعت NLD نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی، تاہم فوجی حکومت نے یہ کہہ کر اقتدار اس پارٹی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ نئے آئین کے بغیر اقتدار جمہوری حکومت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ قومی لیگ برائے جمہوریت کی سربراہ نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سُوچی کو گزشتہ بیس میں سے چودہ برس قیدوبند کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں۔ وہ اس وقت بھی 18 ماہ کی نظربندی کاٹ رہی ہیں۔

نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی سمیت حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اورکئی ممالک کی جانب سے سوچی کی رہائی کے مسلسل مطالبے کئے جا رہے ہیں۔ اسی برس فروری میں میانمار کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی سے متعلق خصوصی نمائندے نے کہا تھا کہ سوچی اور دیگر 21 سو سیاسی قیدیوں کو پس زنداں رکھتے ہوئے ملک میں منصفانہ، شفاف اور آزاد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ انتخابات اسی سال اکتوبر یا نومبر میں کرائے جائیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : مقبول ملک

DW.COM

Audios and videos on the topic