1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میئر کے الیکشن، چاقو حملے میں زخمی ہونے والی سیاستدان سب سے آگے

جرمن شہر کولون میں بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق مقامی شہریوں نے چاقو حملے میں زخمی ہونے والی سیاستدان ہینری ایٹے ریکر کو کولون کی میئر منتخب کر لیا ہے۔

انتخابات سے ایک روز قبل مہاجرین کی حامی ایک امیدوار کو چاقو حملے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ میئر کے انتخابات کے سلسلے میں اہم ترین امیدواروں میں سے ایک کے زخمی ہو کر ہسپتال منتقل ہو جانے کے باوجود الیکشن انتظامیہ نے شہر کے آٹھ لاکھ ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنا ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔

آزاد حیثیت سے میئر کے لیے انتخاب میں حصہ لینے والی امیدوار ہینری ایٹے ریکر کو ایک حملہ آور نے چاقو کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ینری ایٹے ریکر کو میئر منتخب کر لیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری نتائج کا ابھی انتظار ہے۔

پولیس کے مطابق جرمنی کے اس چوتھے سب سے بڑے شہر میں اس واقعے میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 44 سالہ ملزم کو ریکر کے مہاجرین کے حق میں موقف رکھنے پر غصہ تھا اور اسی کے نتیجے میں اس نے ریکر پر چاقو کے وار کیے۔

Köln Messerattacke auf OB-Spitzenkandidatin Henriette Reker

ریکر ایک حملے میں زخمی ہو گئی تھیں

پولیس اور ریاستی پراسیکیوٹر دفتر کے مطابق ملزم ذہنی طور پر اچھی حالت میں ہے اور نفسیاتی تجزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسے اقدام قتل سمیت حملہ کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ اتوار کے روز ملزم کو عدالت میں بھی پیش کیا گیا۔

تفتیش کاروں کے مطابق اس ملزم نے اس حملے کا اعتراف کیا اور بتایا گیاکہ 90 کی دہائی میں یہ شخص انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے ساتھ منسلک تھا۔ تاہم حکام نے اس ملزم سے متعلق مزید معلومات ظاہر نہیں کيں۔

جرمن میگزین اشپیگل کے مطابق اس ملزم کا تعلق فری جرمن ورکرز پارٹی سے ہے، جو ماضی ميں نیو نازی طرز کا ايک گروہ تھا اور جسے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ میگزین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی یہ شخص نسل پرستانہ نعروں اور جملوں پر مبنی بیانات آن لائن پوسٹ کرتا رہا ہے۔

زخمی امیدوار ریکر مہاجرین کے لیے رہائش کے انتظامات میں شامل رہی ہیں اور اتوار کے انتخابات میں ان کے جیتنے کے امکانات خاصے روشن ہيں۔ وفاق میں حکمران جماعت CDU ،گرین پارٹی اور لبرل فری ڈیموکریٹ پارٹی تمام ریکر کی حمایت کر رہی تھیں اور تقریباﹰ واضح تھا کہ وہ یہ انتخاب جیت جائیں گی۔ ان کی انتخابی مہم میں جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کا معاشرتی دھارے میں انضمام مرکزی موضوع رہا۔