1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی ترجیح رہے گی، چینی وزیر اعظم

چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ نے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی اور مہنگائی میں کمی کرتے ہوئے سماجی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کو پارلیمنٹ کے سالانہ سیشن سے خطاب میں کہی۔

default

چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ

چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ نے بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کے افتتاحی سیشن کے موقع پر تین ہزار مندوبین سے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت افراطِ زر کی شرح چار فیصد تک رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ شرح نمو کے لیے آٹھ فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی ترقی کے محرکات فعال ہیں اور ملک کو زیادہ خوشحالی کی طرف لے جانے کے لیے حکومت کی پوزیشن اور بھی مضبوط ہے۔

وین جیاباؤ کی یہ تقریر ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی گئی، جس میں انہوں نے کہا، ’معیشت دھیرے دھیرے لیکن تسلسل سے بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن اس بحالی کی بنیاد مضبوط نہیں ہے۔‘

انہوں نے تسلیم کیا کہ ناہموار اقتصادی ترقی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’حالیہ دِنوں میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ افراط زر کی شرح بھی توقع سے زیادہ بڑھی ہے۔‘

چینی وزیر اعظم نے مزید کہا، ’یہ مسئلہ عوام کی فلاح و بہبود پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ مجموعی مفادات اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں قیمتوں کی مجموعی سطح کو قابو میں رکھنے کے مقصد کو اپنی اوّلین ترجیح بنانا ہوگا۔‘

نیشنل پیپلز کانگریس کا اجلاس دس روز تک جاری رہے گا، جس میں رواں برس سے 2015ء تک چین کا پانچ سالہ اقتصادی منصوبہ منظور کیا جائے گا۔ 1949ء میں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے حکومت سنبھالنے کے بعد ملک کا یہ بارھواں منصوبہ ہوگا، جس کا مقصد مزید پائیدار شرح نمو کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ امیر اور غریب کے درمیان فرق کو کم سے کم کرنا بتایا جاتا ہے۔

Radfahrer vor Kohlekraftwerk in China

چین دنیا کا دوسرا بڑا اقتصادی ملک ہے

اس حوالے سے وین جیاباؤ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت بعض شہروں میں رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرے گی۔

خیال رہے کہ چین اس وقت اقتصادی لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے، تاہم اس کامیابی کی قیمت اسے آلودگی کی صورت میں ادا کرنا پڑی ہے۔ اس کی شرح نمو میں برآمدات اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

چینی وزیر اعظم نے اپنی اس تقریر میں عرب ممالک کے بحران کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبررساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس