مہمند ایجنسی میں طالبان کے حملے، نو سکیورٹی اہلکار ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 18.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہمند ایجنسی میں طالبان کے حملے، نو سکیورٹی اہلکار ہلاک

طالبان عسکریت پسندوں نے مہمند ایجنسی میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر کے سات سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اسی قبائلی علاقے میں دو سکیورٹی گارڈز ایک دوسرے حملے میں مار دیا گیا۔

مہمند ایجنسی کے ایک سینیئر حکومتی اہلکار نوید اکبر نے بین الاقوامی نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’ایک حملے میں دو خاصہ دار اہلکاروں کو گولیوں سے ہلاک کیا گیا جبکہ دوسرے حملے کا نشانہ ایک گاؤں میں قائم چیک پوسٹ تھی اور اِس حملے میں سات سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔‘‘ ایک اور حکومتی افسر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی نعشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ ان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے اعلان میں کہا گیا کہ شریعت کے نفاذ تک اُن کے حملے جاری رہیں گے۔

پاکستانی طالبان سن 2007 سے مہمند ایجنسی میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے پرتشدد مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس قبائلی علاقے میں متعدد فوجی آپریشنوں کے باعث بظاہر شدت پسندوں کے حملوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے لیکن اب بھی عسکریت پسند سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی اپنے دہشت گردانہ حملوں میں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ شدت پسندوں کی جانب سے خیبر پختونخواہ کی باچا خان یونیورسٹی میں طلبا سمیت بیس افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔