1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہمند ایجنسی میں خودکش حملے: کم از کم 40 ہلاک

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو خود کش بمباروں نے حکومت کی حامی اور طالبان مخالف امن کمیٹی کی میٹنگ میں حملہ کرتے ہوئے درجنوں شرکاء کو ہلاک کر دیا۔

default

سابقہ خود کش حملے کا زخمی

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کی قبائلی پٹی مہمند ایجنسی میں حکومت کی مقررکردہ پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر کو انتہاپسند طالبان کے خود کش بمباروں نے اس وقت نشانہ بنایا، جب وہاں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ میٹنگ کے لئے انتظامیہ کی بلڈنگ میں ایک سو سے زائد افراد موجود تھے۔

کمیٹی کے ممبران عموماً قبائلی علاقوں کے سرکردہ افراد ہوتے ہیں اور ان کے ہمراہ حامیوں کا گروپ بھی چلتا ہے۔ یہ افراد امن کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اس خصوصی میٹنگ کو دو خود کش بمباروں کی کارروائی کا نشانہ بننا پڑا۔ عام خیال کیا جاتا ہے کہ میٹنگ کے شرکاء قبائلی علاقوں میں سرگرم انتہا پسندوں کے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔

موقع پر موجود بعض افراد کے مطابق دونوں بمبار موٹر سائیکلوں پر سوار

Pakistanische Älteste versammeln sich zu einer Jirga

ایک سابقہ قبائلی جرگے کا منظر

تھے جبکہ کچھ دیگر ان سے مختلف شہادتیں دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک شخص نے میٹنگ کے کمرے میں جا کر اپنے بدن سے منسلک بارودی مواد کو اڑا دیا جبکہ دوسرے نے عمارت کے باہر بارودی بیلٹ کو اڑا دیا۔

بارودی مواد کے پھٹنے کے بعد عمارت میں تباہی پھیل گئی۔ ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 28 سے لے کر کے پچاس تک بتائی جا رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے۔ درجنوں دیگر زخمی ہیں۔

خود کش حملے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کے لئے فوری امدادی کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ زخمی اور نعشیں غلنئی کے مقامی ہسپتال کے علاوہ پشاور شہر پہنچانی شروع کر دی گئیں۔ ملبہ ہٹانے کا عمل بھی شروع ہے۔ ہلاکتوں کی ابتدائی اطلاعات کے بعد مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کئی زخمی تشویشناک حالت میں ہیں۔

مہمند ایجنسی افغانستان کی سرحد کے ساتھ سات قبائلی پٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس علاقے میں کچھ عرصہ قبل پاکستانی فوج نے انتہاپسندوں کے خلاف آپریشن بھی کیا تھا۔ امکان ہے کہ اب بھی کئی انتہا پسند اس قبائلی پٹی میں روپوش ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس