1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مہرشالا علی کا آسکر ایوارڈ اور ان کے عقیدے پر بحث

اداکار مہرشالا علی کو بہترین معاون اداکار کا آسکر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ پہلے مسلمان اداکار ہیں جنہیں یہ ایوارڈ ملا ہے لیکن احمدی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ان کے عقیدے پر بحث چھڑ گئی ہے۔

تینتالیس سالہ اداکار مہرشالا  علی کو اتوار کے روز ’مون لائٹ‘ ڈرامہ میں بہترین معاون کا کردار ادا کرنے پر آسکر ایوارڈ دیا گیا۔ مون لائٹ میں مہر شالا علی نے ایک ہم جنس شخص کا کردار ادا کیا تھا۔نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سن 1999 میں علی اسلام قبول کرتے ہوئے احمدیہ کمیونٹی کا حصہ بن گئے تھے لیکن پاکستان میں احمدیوں کو مسلمانوں تصور نہیں کیا جاتا۔

آسکر ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد علی نے اپنی تقریر میں کہا، ’’میں اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ تم ان کرداروں اور کہانیوں کی خدمت کے لیے ہو۔‘‘

علی کو جیسے ہی آسکر ایوارڈ ملا تو دنیا بھر سے انہیں اس بات پر مبارک باد کے پیغامات دیے جانے لگے کے وہ  سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہیں آسکر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں تعینات پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے بھی انہیں مبارک باد کا پیغام دیا لیکن انہوں نے کچھ دیر بعد اپنی اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا۔

امریکا میں نامور بلاگر کاشف چوہدری نے اس حوالے سے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ملیحہ لودھی کی جانب سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ان جیسے بہادر لوگ بھی احمدیوں کے خلاف جذبات اور معاشرتی رویے کو نظر انداز نہیں کر پاتے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں احمدی مسلمانوں کو کیسے رویے کا سامنا ہے۔‘‘

پاکستان کے آئین کے مطابق احمدی ’غیر مسلم‘ ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد نے ملیحہ لودھی کی جانب سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ مسلمان پہلے بھی مختلف کیٹیگریوں میں آسکر ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں لیکن علی وہ پہلے شخص ہیں جنہیں اداکاری کے شعبے میں آسکر ایوارڈ ملا ہے۔