1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہران ایئر بیس حملہ: نیوی حکام کی بریفنگ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو نیوی حکام کی طرف سے دی گئی ایک خفیہ بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ مہران ایئر بیس پر حملے میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے چند فوجی اہلکاروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی ہے۔

default

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کوبتایا کہ جن اہلکاروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی ہے ان میں کیپٹن سے لے کر بریگیڈیئر اور نیوی سیلرز کے رینک کے اہلکار شامل ہیں۔ کمیٹی کے اس رکن کے مطابق جب نیوی حکام سے پوچھا گیا کہ ان اہلکاروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کیوں کی گئی تو حکام کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ اہلکار مہران ایئر بیس حملے میں ملوث تھے جس کا ثبوت دہشت گردوں کے پاس مہران بیس کے اندر کے نقشوں کا موجود ہونا تھا اس کے علاوہ دہشتگردوں کی جانب سے انتہائی مہنگے پی سی اورین طیاروں کو ہدف بنانا بھی ظاہر کرتا ہے کہ کوئی انہیں اندر سے رہنمائی فراہم کر رہا تھا۔

Flash-Galerie Spuren des Terrors

دہشت گردوں نے بائیس مئی کو کراچی میں مہران نیول بیس پر حملہ کیا تھا

نیوی حکام کی اس بریفنگ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے دفاعی مبصر ایئر مارشل (ر) مسعود اختر نے کہا: ''شاید سچ یہی ہے لیکن اس کے اثرات مضر ہو سکتے ہیں، کیوں کہ باہر کے لوگ اس کو بہت منفی انداز سے دیکھیں گے۔ لیکن ہمیں اندرونی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ پاک فضائیہ، آرمی اور نیوی اس شدت پسندی کے سمندر میں کسی جزیرے پرواقع نہیں۔ یہاں کوئی بھی شدت پسند ہو سکتا ہے۔''

دہشت گردوں نے بائیس مئی کو کراچی میں مہران نیول بیس پر حملہ کیا تھا اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں رینجرز اور نیوی کے کم از کم دس اہلکار مارے گئے جب کہ اس واقعے میں چار دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ اس حملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی تاہم نیوی نے اپنی محکمانہ تحقیقات مکمل کر لی ہیں، اور اسی پر مبنی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کی گئی۔

Syed Saleem Shahzad

پاکستانی صحافی سلیم شہزاد نے اپنے پراسرار قتل سے پہلے پاکستانی نیوی اور القاعدہ کے مبینہ روابط کا اپنی ایک رپورٹ میں ذکر کیا تھا

قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں شامل پیپلزپارٹی س۔ تعلق رکھنے والے اسمبلی کے رکن نواب عبدالغنی تالپور کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی دفاعی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ ان کا کہنا تھا: ''دراصل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی مکمل رپورٹ آئے گی تو ان سے ایک مرتبہ پھر بریفنگ لے کر ہم سفارشات تیار کریں گے۔ ابھی تک ہم نے یہ سفارشات تیار نہیں کی ہیں۔ جب تحقیقات مکمل ہوں گی تو ہم اپنی سفارشات آگے بھجوا دیں گے۔‘‘

تاہم اس کمیٹی کے ایک اور رکن اور مسلم لیگ (ن) سے وابستہ شیخ روحیل اصغر کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیاں غیر مؤثر ہیں اور ان میں ہونے والی کارروائی کاکوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا ''پچھلے تین سالوں میں ان کمیٹیوں کی ایک بھی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس پہ کہا جا سکے کہ ان کمیٹیوں نے کوئی سفارش کی ہو اور اس پر عملدرآمد ہوا ہو۔ ان کمیٹیوں میں بیٹھ کر، ایک چائے کی پیالی پی کر باتیں سن کر واپس آجائیں تو ان کمیٹیوں کا کیا فائدہ ہے؟''

دفاعی کمیٹی کے بعض دیگر ارکان نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوی حکام کی طرف سے دی گئی بریفنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی رپورٹ زیادہ جامع نہیں ہے اور ان میں بہت سے پہلوؤں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: شامل شمس



DW.COM