1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر کی موت، ہنگری کی پولیس شامل تفتیش

ہنگری میں ریاستی دفتر استغاثہ ایک مہاجر کی موت کے سلسلے میں ملکی پولیس کے خلاف فوجداری مقدمہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ مہاجر رواں ماہ سربیا سے ہنگری پہنچنے کی کوشش میں دریائے تیسا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ہنگری میں اسٹیٹ پراسیکیوٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ جاننے کے لیے تحقیقاتی عمل شروع کر دیا گیا ہے کہ آیا اس مہاجر کی ہلاکت کے لیے ملکی پولیس کو بھی ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف محکمہ پولیس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بائیس سالہ فرحان الحوائش نامی اس مہاجر کی موت دریا میں ڈوبنے سے ہوئی نہ کہ کسی نے اسے کسی طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

فرحان یکم جون کو اس وقت دریائے تیسا میں ڈوب گیا تھا، جب وہ انسانوں کے اسمگلروں کی مدد سے متعدد دیگر مہاجرین کے ساتھ سربیا سے ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش میں تھا۔

پولیس کو اس کی لاش دو دن بعد ملی تھی۔ اسی کوشش کے دوران فرحان کا بھائی ہنگری پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

فرحان کے بھائی عبداللہ کا کہنا ہے کہ جب وہ دریائے تیسا کے کنارے پر پہنچے تو سرحدی نگرانی پر تعینات ہنگری کے پولیس اہلکاروں نے دریا میں تیرتے اس کے بھائی پر مختلف اشیاء پھینکیں، گیس کا سپرے کیا اور حملہ آور کتوں تک کو بھی چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ وہ کنارے تک نہ پہنچ پائے۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکاورں کی طرف سے کوئی غلط رویہ نہیں اپنایا گیا تھا۔ روئٹرز کو ارسال کردہ ایک بیان میں ہنگری کی پولیس نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ اس ای میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پانچ افراد پر مشتمل ایک عراقی کنبے کو اسی دریا سے بحفاظت نکالا گیا تھا۔ مزید یہ کہ غیر قانونی مہاجرین کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے انسانی وقار کا بھی پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق پولیس اپنی ذمہ داریاں انتہائی مناسب اور پیشہ ورانہ طریقے سے انجام دے رہی ہے۔

اس مہاجر کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق فرحان کی ہلاکت ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی جبکہ اس کے جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھے۔

Deutschland ungarische Soldaten schließen den Grenzzaun zu Serbien bei Roszke

یہ مہاجر رواں ماہ سربیا سے ہنگری پہنچنے کی کوشش میں دریائے تیسا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا

ہنگری میں ریاستی استغاثہ نے روئٹرز کے نام ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ ان امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کہیں اس ہلاکت میں ملکی پولیس تو ملوث نہیں رہی۔ اس امر کے تعین کے لیے فرحان نامی عرب مہاجر کی موت سے متعلق تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

روئٹرز کے مطابق ہنگری میں یہ پہلا واقعہ ہے، جس میں کسی مہاجر کی موت کی تحقیقات میں پولیس کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یکم جون کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی خبریں عام ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجریں نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعے کی جامع اور غیر جانبدارانہ چھان بین کی جانا چاہیے۔