1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجر کیمپ میں ایک دن ایک برس کے برابر ہے‘

باہر سے دیکھنے والوں کے لیے یونان اور مقدونیہ کی سرحد پر واقع اڈومینی کے کیمپ میں موجود مہاجرین نے حالات سے بظاہر مطابقت پیدا کر لی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

Flüchtlinge in Idomeni psychologische Strapazen

اڈومینی میں موجود ہر مہاجر کی ایک دردناک کہانی ہے

ایک ماہ سے زائد عرصہ قبل اڈومینی پہنچنے والے مہاجرین ہر ممکن کوشش میں ہیں کہ وہاں اذیت بھرا وقت جلد گزر جائے۔ وہاں بارہ ہزار مہاجرین موجود ہیں، جو اس ایک لمحے کے انتظار میں ہیں کہ سرحدیں کھل جائیں اور وہ وسطی اور شمالی یورپی ممالک کی طرف بڑھ سکیں۔ ان کے خیال میں شورش زدہ علاقوں سے فرار لاحاصل نہیں ہو گا۔

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

یونان میں پھنسے پاکستانی وطن واپسی کے لیے بیقرار

دور سے دیکھنے میں معلوم ہوتا ہے کہ اس کیمپ میں زندگی رواں دواں ہے، بچے کھیل رہے ہیں، کنبے عارضی رہائش گاہوں میں کھانا پکا رہے ہیں، نوجوان گاؤں کی تنگ اور چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بھاگ دوڑ رہے ہیں اور خواتین دیگر کاموں میں مصروف ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہاں زندگی ایک عذاب سے کم نہیں ہے۔

آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا اب

اڈومینی میں مہاجرین پریشان ہیں۔ وہ مزید وہاں نہیں رکنا چاہتے۔ وہ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ ابھی تک اس امید میں ہیں کہ شاید سرحدیں کھل جائیں گی اور وہ اپنے خوابوں کا سفر جاری رکھ سکیں گے۔ لیکن اب ان کا آگے بڑھانا آسان کام نہیں رہا۔ مقدونیہ کی سرحدی پولیس انتہائی چوکنا ہے اور وہ ان مہاجرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے انتہائی قدم بھی اٹھا سکتی ہے۔

اس پریشانی اور ذہنی کرب میں جھوٹ بھی تسلی بن جاتا ہے۔ اڈومینی کے مہاجر کیمپ میں کئی مرتبہ ایسی افواہیں پھیلیں کہ سرحدیں کھل رہی ہیں اور تمام رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں۔ وہاں مہاجرین ایسی غلط معلومات پر یقین کرنے کو تیار ہیں۔ وہ اپنی امیدوں کو ٹوٹتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس صورتحال میں وہ یونانی حکام کی طرف سے لاؤڈ اسپکرز پر مہیا کردہ اہم معلومات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

اڈومینی میں موجود عراقی مہاجر فارح نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں مکمل طور پر گم ہو چکا ہوں۔ ہر روز مجھے ایک ایسی خبر ملتی ہے، جس سے میری امیدیں جوان ہو جاتی ہیں اور دوسرے ہی دن ایسی خبر ، جس سے میں مایوس ہو جاتا ہوں۔ میں مخمصے کا شکار ہوں۔ میں اور میرا کبنہ ذہنی طور پر ہمت ہارتے جا رہے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ابھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کا ایک دن ایک برس کے برابر ہے۔‘‘

پہلے ہی بہت دکھ تھا

مصطفیٰ اکیلا ہے۔ وہ جرمنی جانا چاہتا ہے۔ اس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جرمنی میں اس کا ایک کزن ہے۔ ’’سرحد کھل جائے گی۔ مجھے اسے عبور کرنا ہے۔ مجھے جرمنی جانا ہے۔‘‘ اس صورتحال میں اڈومینی کے متعدد مہاجرین اب باقاعدہ طور پر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

اڈومینی میں موجود امدادی ادارے ایم ایس ایف کی ماہر نفسیات اگیلا بولٹسی کے مطابق سرحدیں بند ہونے کہ وجہ سے مہاجرین کے چھپے ہوئے جذبات عیاں ہونے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناامیدی کی صورتحال میں مہاجرین کے مسائل بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور یہ عمل ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے۔

اس خاتون ماہر نفسیات نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس کیمپ میں موجود متعدد لوگ پہلے ہی ہولناک مناظر دیکھنے کے بعد یہاں پہنچے ہیں، ’’مہاجرین کی تلخ یادیں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ اس صورتحال میں ان کے مسائل دوچند ہو سکتے ہیں۔ ہم نے کئی ایسے مہاجرین کو مدد پہنچائی ہے، جو نفسیاتی طور پر التباسات کا شکار ہیں اور انہیں ’خوف کے دورے‘ پڑتے ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:50

تین سوال، تین جواب: غیر قانونی تارکین وطن کی یونان سے ترکی واپسی

چھبیس سالہ ابراہیم کا تعلق عراق سے ہے اور وہ بھی اڈومینی مہاجر کیمپ میں بے قرار ہے۔ بظاہر وہ مسکراتا رہتا ہے لیکن ڈی ڈبلیو سے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے وہ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس نے کہا، ’’میں ہر چیز سے بدظن ہوتا جا رہا ہوں۔ عراق میں میں پڑھ بھی رہا تھا اور کام بھی کر رہا تھا۔ میں سب چھوڑ کر یہاں آیا۔ سوچا تھا کہ میں جرمنی پہنچ جاؤں گا اور پھر اپنی اہلیہ کو بھی بلوا لوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب میں کیا کروں گا۔‘‘

نیا قانون: جرمن سیکھو، معاشرے میں ضم ہو جاؤ، ورنہ واپس جاؤ

اڈومینی میں اب آئے روز مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ یہاں موجود مہاجرین چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصے میں بھی آ جاتے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تین مہاجر خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ان میں سے دو ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اڈومینی میں موجود ہر مہاجر کی ایک دردناک کہانی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic