1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر کیمپوں کے معائنے کا آغاز، امریکی حکام آسٹریلیا میں

آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بل نے کہا ہے کہ پاپوآ نیو گنی میں مہاجرکیمپ میں موجود پناہ گزینوں کی جانچ اور ان کی ممکنہ امریکا منتقلی کے لیے امریکی حکام آسٹریلیا پہنچ گئے ہیں۔

امریکا اور آسٹریلیا کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرنے والے ان مہاجرین کو جنہیں کینبرا حکومت نے پاپوآ نیو گنی کے مانوس اور ناؤرو کے جزائر پر قائم کیے گئے مہاجر کیمہوں میں رکھا گیا ہے، امریکا میں بسایا جائے گا۔

ہفتے کے روز آسٹریلوی وزیراعظم ٹرن بل نے بتایا کہ اس منتقلی سے قبل جائزے کے لیے ایک امریکی ٹیم آسٹریلیا پہنچ گئی ہے۔ ٹرن بل کے مطابق ان کیمپوں میں موجود بارہ سو مہاجرین میں سے امریکا ایک بڑی تعداد کو اپنے ہاں جگہ دے گا۔ اس سے قبل مہاجرین مخالف موقف کے حامل ڈونڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں غیرمتوقع فتح کے بعد اس معاہدے کے مستقبل پر بھی سوال اٹھائے جا رہے تھے۔

یہ بات اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران ابتدا میں تمام مسلمانوں کی امریکا آمد پر پابندی کا نعرہ لگایا تھا، تاہم بعد میں اپنے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پر پابندی ان ممالک پر لگائی جانا چاہیے، جو دہشت گردی سے متاثرہ ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاپوآ نیو گنی میں قائم ان دو متنازعہ حراستی مراکز اور مہاجر کیمپوں میں مقیم زیادہ تر مہاجرین مسلم ہیں، جن کا تعلق شام، عراق، افغانستان اور پاکستان سے ہے۔

ٹرن بل نے پیرو کے دارالحکومت لیما میں جاری ایشیا پیسفک اقتصادی تعاون کے سربراہی اجلاس کے ایک حاشیے پر کہا، ’’امریکا کے ہوم لینڈ سکیورٹی سے تعلق رکھنے والے حکام آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں، جہاں سے وہ جلد ہی ناؤرو جائیں گے۔‘‘

مہاجرین کی یہ منتقلی 20 جنوری کو ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل ممکن نہیں ہے اور ٹرن بل کے مطابق اس سلسلے میں فیصلہ بھی امریکی حکام ہی کریں گے۔

Nauru Flüchtlinge ARCHIV 2003 (picture-alliance/dpa)

اس مہاجر بستی کی حالت زار پر آسٹریلیا کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے

کینبرا حکومت آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کو پاپوآ نیوگنی کے مانُس اور ناؤروُ جزائر پر بنائے گئے حراستی مراکز میں منتقل کر دیتی ہے، تاہم یہاں مہاجرین کی حالت زار کے تناظر میں آسٹریلیا کو بین الاقوامی امدادی اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق یہ طے ہو جانے کے بعد بھی کہ کوئی شخص واقعی پناہ کا متلاشی ہے، اس کی آسٹریلیا منتقلی ممکن نہیں ہوتی۔

افغانستان، سری لنکا اور مشرقی وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اب تک آسٹریلوی حکومتیں ان افراد کی کشتیوں کو سمندر ہی میں روک کر خفیہ آپریشنز کے ذریعے انہیں بحرالکاہل میں واقع جزائر پر بنائے گئے ان حراستی مراکز میں منتقل کرتی رہی ہیں۔

آسٹریلیا میں موجود قدامت پسند حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تاہم حراستی مراکز کی خراب حالت اور وہاں موجود مہاجرین کی حالت زار پر مہاجرین دوست تنظیمیں سخت تنقید کرتی ہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض مہاجرین اپنی لامتناہی قید پر ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں طویل المدتی حل کی ضرورت ہے۔ اس عالمی تنظیم کے مطابق اگر آسٹریلیا ان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے آپریشنز کا آغاز کر رہا ہے، تو اس سلسلے میں مانُس اور ناؤرو میں موجود تمام مہاجرین کو منتقل کیا جائے۔