1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر ماں نے سمندر میں ہی بچے کو جنم دے دیا

ليبيا سے سفر کرنے والے ايک افريقی پناہ گزين خاندان کو بحيرہ روم سے بچايا گيا، جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اس خاندان کی ایک حاملہ خاتون نے ریسکیو بوٹ میں ہی ایک بچے کو جنم دے دیا۔

بہتر مستقبل اور سياسی پناہ کی غرض سے يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران رواں سال ہزاروں پناہ گزين بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہيں۔ ذرائع ابلاغ پر اکثر اوقات کشتياں ڈوبنے کے ہولناک مناظر  نشر کیے جاتے ہيں تاہم اسی دوران ريسکيو کی چند حيرت انگيز کہانياں بھی سننے کو ملتی ہيں۔

ايسی ہی ايک کہانی کا ذکر خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی جرمن دارالحکومت برلن سے منگل کو موصولہ رپورٹوں ميں بھی ہے۔ ايک خاندان کے ارکان کو بحيرہ روم کی موجوں سے بچايا گيا اور پھر چوبيس گھنٹوں کے اندر ہی اس اہل خانہ کی خاتون نے اس وقت ایک بچے کو جنم ديا، جب وہ  ایک ریسکیو بوٹ پر ساحل سمندر میں پہنچائی جا رہی تھی۔

فرانسيسی امدادی تنظيم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے زير انتظام ريسکيو شپ ’اکويريئس‘ پر افريقی ملک نائجيريا سے تعلق رکھنے والے والدين کے ہاں پير بارہ ستمبر کو بين الاقوامی سمندری حدود ميں ايک لڑکے کی پيدائش ہوئی ہے۔ بچے کا نام نيومن اوٹاس رکھا گيا ہے۔ بچے کی پيدائش ميں مدد کرنے والی مڈ وائف جونکوئل نکول نے بتايا کہ پيدائش قدرتی طريقے اور باآسانی ہوئی گو کہ حالات کافی مشکل اور دشوار گزار تھے۔

بچے کے والدين اوٹاس اور فيتھ اور دو بھائی وکٹری اور رولريس کو ايک روز قبل ہی ايک ربڑ کی کشتی پر سفر کرتے ہوئے بچايا گيا تھا۔ وہ ليبيا سے اٹلی کی طرف مہاجرت کا سفر کر رہے تھے۔