1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر خاندانوں کو ملانے والے جرمن ’گاڈ فادرز‘

برلن کے ہوائی اڈے پر محمد کئی برسوں بعد اپنے اکہتر سالہ والد سے ملا۔ آنسوؤں کو روکتے ہوئے اس نے کہا، ’’ابو آپ بہت تھکے ہوئے اور کمزور دکھائی دے رہے ہیں، لیکن میں خوش ہوں آپ سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں، یہی کافی ہے۔‘‘

محمد ایک شامی مہاجر ہے جو 2006ء سے جرمنی میں رہ رہا ہے اور وہ کئی برسوں کی کوشش کے بعد اب اپنے والد کو جرمنی بلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اپنے بیٹے سے ملاقات کے جذباتی لمحات گزرنے کے بعد اس بوڑھے باپ نے سب سے پہلا کام یہ کیا وہ جنگ سے تباہ حال شامی شہر حلب سے اپنے ہمراہ لائے ہوئے تحائف لے کر چھیالیس سالہ جرمن شہری مارٹن فگر سے ملنے پہنچ گیا۔

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

وہ اس سے پہلے فگر سے کبھی نہیں ملے، نہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اجنبی جرمن شخص کون ہے۔ در حقیقت یہی وہ شخص جو اس خاندان کے ملاپ کا باعث بنا۔ فگر ’گاڈ فادر فار ریفیوجیز‘ میں سے ایک ہے۔ ’گاڈ فادرز فار ریفیوجیز‘ نامی یہ سماجی تنظیم جرمنی میں مقیم تارکین وطن کو ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو جرمنی بلانے میں معاونت کرتی ہے۔

فگر سے ملاقات کرتے ہوئے محمد کے والد کا کہنا تھا، ’’دوران جنگ جرمن حکومت اور عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ شامی شہریوں کا عرب ممالک سے زیادہ خیال کرنے والے دوست ہیں۔‘‘ محمد کے والد کا نام اس لیے صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے کیوں کہ انہیں اندیشہ ہے کہ شناخت ظاہر ہونے پر حلب میں محصور ان کے دیگر اہل خانہ کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یورپ میں لاکھوں مہاجرین کی آمد کے بعد سرحدیں بند ہو چکی ہیں۔ اب شام اور دیگر شورش زدہ ممالک سے جرمنی تک کا سفر قریب ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں جو مہاجرین جرمنی پہنچ چکے ہیں، ان کے لیے اپنے اہل خانہ کو جرمنی بلانا بھی قریب ناممکن ہو چکا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

’عارضی سہی لیکن گھر تو ہے‘

مارٹن کیونے، جو ’گاڈ فاردرز فار ریفیوجیز‘ نامی سماجی تنظیم کے بانی ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تنظیم بنانے کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے دو شامی مہاجرین کی مدد کرتے ہوئے انہیں اپنے گھر میں رکھا تو ان دونوں نے کیونے سے درخواست کی کہ وہ ان کے اہل خانہ کو جرمنی بلانے میں مدد کریں۔

کیونے اپنی بیوی کے یہودی ماموں کی کہانی سے متاثر تھا۔ وہ ہولوکاسٹ کے دوران نازیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے سے اس لیے بچ گئے تھے کیوں کہ انہیں ایک برطانوی جوڑے نے گود لے لیا تھا۔

جرمنی میں اہل خانہ کو بلانے کے بارے میں قوانین کافی سخت ہیں۔ محمد کا کہنا ہے، ’’جب میں نے فیملی ری یونین کے قوانین دیکھے تو میں پریشان ہو گیا۔‘‘

اہل خانہ کو بلانے کے لیے کافی پیسے درکار ہوتے ہیں۔ ’گاڈ فادرز فار ریفیوجیز‘ کے بائیس سو سے زیادہ اراکین ہیں جو ’کراؤڈ فنڈنگ‘ کے ذریعے پیسے جمع کر کے مہاجرین کے اہل خانہ کو جرمنی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مارچ 2015ء سے اب تک یہ تنظیم 103 شامیوں کو جرمنی بلا چکی ہے۔ یہ تنظیم صرف مہاجرین کے قریبی رشتہ داروں، جیسا کہ بیوی، بچے یا والدین، کو بلانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM

Audios and videos on the topic