1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر بچوں کی ’اذیت ناک صورت حال کی ذمہ دار‘ آسٹریلوی حکومت

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ آسٹریلوی حکومت آف شور حراستی مراکز میں برسوں سے محصور ایسے مہاجر بچوں کو ذہنی تکالیف میں مبتلا کرنے کی مرتکب ہوئی ہے، جو صدمات سہنے کے بعد اب مختلف نفیساتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اقوام متحدہ کے تحقیق کار فرانسوا کریپو کے حوالے سے بتایا ہے کہ آسٹریلوی حکومت نے مہاجر بچوں کو ایسے حراستی مراکز میں قید رکھا ہوا ہے، جہاں وہ مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی متنازعہ مہاجر پالیسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ یہ بیان اب تک کا شدید ترین موقف قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا پہنچنے والے مہاجرین، امریکا میں بسائے جائیں گے

آسٹریلیا: ’غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے پر تا عمر پابندی‘

مہاجر پاپوا نیوگنی میں رہیں ورنہ وطن واپس جائیں، آسٹریلیا

یہ امر اہم ہے کہ سمندری راستے سے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو پکڑ کر ناؤرو یا پاپوا نیوگنی میں قائم مانوس کے حراستی مراکز منتقل کر دیا جاتا ہے، جہاں سے ان کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں مہاجرین کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کریپو کی طرف سے یہ تازہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب عالمی برادری یہ بحث جاری رکھے ہوئے ہے کہ تنازعات کے باعث بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے والے پناہ گزینوں کی حالت زار کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

کریپو نے حراستی مراکز میں قید ان مہاجر بچوں کی تکالیف بیان کرتے ہوئے کہا، ’’(صدمات سے دوچار) ان بچوں میں الجھن اور ڈپریشن کی علامات دیکھی جا رہی ہیں، جن میں بے خوابی، ڈراؤنے خواب دیکھنا اور بستر میں پیشاب کرنا بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال قابل قبول نہیں ہے۔‘‘

آسٹریلوی حکام کے زیر انتظام جنوبی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ ریاست ناؤرو میں ایک حراستی کیمپ کا دورہ کرنے والے کریپو کے مطابق وہاں بچوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے اور اس صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ناؤرو یا مانوس کے حراستی مراکز میں بارہ سو مہاجرین اور تارکین وطن موجود ہیں، جن میں سے متعدد کئی برسوں سے وہاں بند ہیں۔

فرانسوا کریپو نے آسٹریلوی امیگریشن پالیسی کے اُس پہلو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت ویزا یا لازمی سفری دستاویزات کے بغیر آسٹریلیا پہنچنے والے افراد کو حراست میں رکھنا لازمی ہے۔ کریپو کے مطابق یہ آسٹریلوی ضابطہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

آسٹریلوی محکمہ برائے مہاجرت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کریپو کے ’کچھ ابتدائی مشاہدات‘ سے متفق نہیں ہے۔ بیان کے مطابق کینبرا حکومت کی مہاجر پالیسی میں بین الاقوامی ضوابط کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ مہاجرین سے متعلق آسٹریلیا کی متنازعہ حراستی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات