مہاجر بچوں اور خواتین کے لیے بیس خصوصی مراکز | مہاجرین کا بحران | DW | 26.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر بچوں اور خواتین کے لیے بیس خصوصی مراکز

اقوام متحدہ یونان اور بلقان کی ریاستوں میں لاوارث بچوں اور کنبوں کے لیے بیس خصوصی مراکز قائم کرے گا، جن کا مقصد مہاجر خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

Isle of Bute Insel Schottland Syrische Flüchtlinge

ان سینٹرز میں گم شدہ بچوں کو ان کے والدین سے ملانے کا کام بھی کیا جائے گا

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جمعہ 26 فروری کو بتایا کہ یونان اور بلقان کی متعدد ایسی ریاستوں میں خصوصی سینٹرز بنائے جائیں گے، جہاں سے مہاجرین کی بڑی تعداد یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں یونیسیف اور یو این ایچ سی آر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ان حفاظتی مراکز میں بچوں اور والدین کے لیے خصوصی سہولیات موجود ہوں گی۔ بتایا گیا ہے کہ ان بیس سینٹرز میں بچوں کے لیے کھیلنے اور والدین کے لیے آرام وسکون کی جگہیں بھی مختص کی جائیں گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان سینٹرز میں ایسے بچوں کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے گا، جو مہاجرت کے سفر میں اپنے والدین اور رشتہ داروں سے بچھڑ چکے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ مہاجرین کے اس بحران میں لاوارث بچوں کے بیمار ہونے کے علاوہ ان پر تشدد اور انسانوں کے اسمگلروں کے ہاتھ لگ جانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان سینٹرز میں ایسے بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کو اس طرح کے خطرات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

ان سینٹرز میں گم شدہ بچوں کو ان کے والدین سے ملانے کا کام بھی کیا جائے گا۔ یونیسیف کے مطابق یورپ پہنچنے کی کوشش میں مختلف مشکلات اور حادثات کے نتیجے میں کئی بچے اپنے والدین سے بچھڑ جاتے ہیں، اس لیے ایک ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے، جس کی مدد سے وہ کسی جگہ پر اپنے عزیزوں کے ساتھ دوبارہ رابطے میں آ سکیں۔

یونیسیف کی یورپ میں مہاجرین سے متعلق کوآرڈینیٹر Marie-Pierre Poirier کے مطابق، ’’مہاجرت کے اس بحران کی وجہ سے بچوں کی زندگیوں پر بھی بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ انہیں ہر قدم پر مشکلات اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

Kurdische syrische Flüchtling in Kurdistan-Irak

اس وقت ترکی سے بحیرہ ایجیئن کے راستے یونان پہنچنے والے افراد میں سے ساٹھ فیصد خواتین یا بچے ہیں

اس طرح کے چار سینٹر یونان اور مقدونیہ میں پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ ان سینٹرز کی کامیابی کے نتیجے میں مزید مراکز بنانے کے ارادے کو اور بھی تقویت ملی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے دوران ان دونوں ممالک کے علاوہ سربیا، کروشیا اور سلووینیہ میں اس طرح کے مزید سولہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق نوے ہزار ایسے مہاجر بچوں نے بھی یورپی ممالک میں پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں، جو یا تو اپنے والدین سے بچھڑے ہوئے تھے یا لاوارث تھے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق اس وقت ترکی سے بحیرہ ایجیئن کے راستے یونان پہنچنے والے افراد میں سے ساٹھ فیصد خواتین یا بچے ہیں۔