1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجر بغیر پاسپورٹ کے ہو تو قانون کیا کہتا ہے؟

مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران جرمنی آنے والے کئی تارکین وطن نے متعلقہ حکام کے سامنے پاسپورٹ سمیت کسی قسم کی شناختی دستاویزات پیش نہیں کیں۔ شناختی دستاویزات فراہم نہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق کئی مہاجرین کے پاسپورٹ دوران سفر کھو گئے تھے، اور کچھ نے جرمن حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنے پاسپورٹ پھینک دیے۔ ایسے تارکین وطن بھی جرمنی آئے ہیں جو سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے ملک میں پاسپورٹ نہیں بنوا سکے تھے۔

تاہم کئی پناہ گزین ایسے بھی ہیں جنہوں نے جان بوجھ کر شناختی دستاویزات اس لیے فراہم نہیں کیں تا کہ وہ اپنی قومیت چھپا سکیں۔ بعض نے اس وجہ سے پاسپورٹ فراہم نہیں کیے کہ انہیں جرمنی سے ملک بدر کر کے آبائی وطنوں کو روانہ نہ کیا جا سکے۔

لیکن جرمن قوانین کے مطابق پاسپورٹ کے بغیر غیر قانونی طور پر جرمنی داخل ہونے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جرمنی کے رہائشی ایکٹ کی شق نمبر تین کے مطابق تمام غیر ملکیوں پر لازم ہے کہ وہ کارآمد پاسپورٹ کے ساتھ جرمن حدود میں داخل ہوں۔ جرمن پولیس ملک کے داخلی راستوں پر پاسپورٹ چیک کرنے کی مجاز ہے۔

رہائشی ایکٹ کی دفعہ پچانوے کے تحت پاسپورٹ کے بغیر اور غیر قانونی طور پر جرمن حدود میں آنے والوں کو جرمانہ اور ایک سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم عام طور پر غیر قانونی سفر کرنا سنگین جرم نہیں سمجھا جاتا اس لیے مقدمات درج نہیں کیے جاتے۔

جرمنی میں ’غیر قانونی رہائش‘ اختیار کرنے کا جرم کرنے والے، مثال کے طور پر پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود جرمنی نہ چھوڑنے والے، افراد کو عام طور پر گرفتار کر کے مقدمہ چلانے کی بجائے جرمنی سے ملک بدر کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اگر جرمن حکام سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد بھی پناہ گزین کے آبائی وطن کا تعین نہ کر پائیں تو ایسی صورت میں اسے عارضی طور پر جرمنی میں رہنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

DW.COM