1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین یورپ کے بجائے ’لاطینی امریکا جائیں‘

برطانوی وزیر اعظم مے نے یورپی یونین کے ایک اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے اس منصوبے کی مالی معاونت کرے گا جس کے ذریعے یورپ آنے کے خواہش مند مہاجرین کو ایشیا اور لاطینی امریکا جانے کی ترغیب دی جائے گی۔

برطانیہ نے تیس ملین پاؤنڈ کی  مالیت کے ایک پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعے مشرقی یورپ اور یونان کے ساحلی علاقوں پر ان خواتین مہاجرین کی دیکھ بھال کی جا سکے گی جو کہ اکیلی سفر کر رہی ہوں۔ اس پیکیج کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے جنگ زدہ ممالک سے ہجرت کے خواہش مند افراد کو یہ ترغیب دینا بھی ہے کہ وہ یورپ کے بجائے دیگر ایشیائی ممالک یا لاطینی امریکی ممالک کا رخ کریں۔

 مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے شورش زدہ ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں پناہ کے متلاشی بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچ چکے ہیں اور مزید یہاں آنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین وسطی اور شمالی یورپ کے ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کی پہلی منزل جنوبی یورپی ممالک ہوتے ہیں۔

جمعے کے روز یورپی ملک مالٹا میں یورپی یونین کے رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی ہوا، جس میں لیبیا سے یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد کو کم کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے لیے یورپی رہنماؤں نے لیبیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیبیا سے مہاجرین کی آمد کو روکنے کی ایک وجہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا بھی ہے۔ مہاجرین کے بحران کے آغاز سے لے کر اب تک ہزاروں افراد کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں سمندر برد ہو چکے ہیں۔ جمعہ تین فروری کو ہونے والے اجلاس میں اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔