1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے معاہدے پر اقوام متحدہ کا الزام غلط ہے، آسٹریلیا

آسٹریلیا نے اقوام متحدہ کے اُس الزام کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کینبرا حکومت نے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے والے چند تارکین وطن کو آباد کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

Australien Nauru Flüchtlinge sprechen durch einen Zaun mit Journalisten (picture-alliance/dpa/AP Photo/R. Rycroft)

یل کے تحت پاپوا نيو گنی اور ناؤرو جزائر پر موجود ايسے تارکين وطن کو آسٹريليا ميں پناہ فراہم کی جانی تھی، جن کے آسٹريليا ميں رشتہ دار موجود ہيں

مہاجرین کے امور کے نگران عالمی ادارے یو این ایچ سی آر نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ کینبرا حکومت سے ایک ایسے معاہدے پر اتفاق ہوا تھا جس کی رُو سے پاپوا نيو گنی اور ناؤرو جزائر پر موجود ايسے تارکين وطن کو آسٹريليا ميں پناہ فراہم کی جانی تھی، جن کے آسٹريليا ميں رشتہ دار موجود ہيں۔ بدلے میں یو این ایچ سی آر نے ان جزائر پر موجود مہاجرین کو امریکا منتقل کرنے پر آسٹریلوی حکومت کو مدد فراہم کرنے کو کہا تھا۔

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے سربراہ فيليپو گرانڈی نے کہا ،’’ اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين کو مطلع کيا گيا ہے کہ آسٹريليا ان تارکين وطن کو اپنے ہاں پناہ دينے پر راضی نہيں۔‘‘

تاہم آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ نے کہا ہے کہ اُن کی حکومت تارکین وطن کے حوالے سے اپنی سخت پالیسی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی جس نے اُن مہاجرین کا بہاؤ روکنے میں مدد کی ہے جنہیں انسانی اسمگلر پیسے لے کر کشتیوں پر آسٹریلیا پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔

بشپ کا کہنا تھا کہ مہاجرین کے حوالے سے کینبرا کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ گرانڈی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ  اُن کے ادارے کو آسٹریلیا کی جانب سے حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ پاپوا نيو گنی اور ناؤرو جزائر پر موجود تارکین وطن کے لیے صرف یہی راستہ ہے کہ یا تو وہ جزائر میں ہی مقیم رہیں اور یا پھر امریکا اور کمبوڈیا منتقل کر دیے جائیں۔

 آسٹريلوی وزير اعظم ميلکم ٹرن بال نے سابق امريکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ايک ڈيل کو حتمی شکل دی تھی، جس کے تحت کچھ تارکين وطن کو امريکا ميں بسايا جانا تھا۔ اس ڈيل کو موجودہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’احمقانہ‘ قرار دے چکے ہيں۔ آسٹريليا کے اپنی سرحدوں سے باہر قائم حراستی مراکز ميں اس وقت تقريباً ايک ہزار تارکين وطن موجود ہيں، جن ميں سے کئی کو طبی امداد درکار ہے۔

 

DW.COM