1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے مسائل کے حل میں ٹیکنالوجی معاون

شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کر کے یورپ جانے والوں کے لیے موبائل فونز انتہائی اہم ثابت ہو رہے ہیں۔ اسی ذریعے سے خطرناک راستوں میں بھٹکنے والے مہاجرین کا کٹی ہوئی دنیا سے رابطہ ممکن ہو رہا ہے۔

مہاجرین کے بحران کے دوران منظر عام پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں روز ہی دیکھا جا سکتا ہے کہ مہاجرین اپنا مال و اسباب کھو چکے ہیں۔ کپڑوں کے علاوہ جو دوسری چیز ان کے پاس نظر آتی ہے، وہ ہیں موبائل ٹیلی فون۔ جب وہ اپنے طویل سفر کے دوران کوئی پُرخطر مسافت مکمل کرتے ہیں تو پانی کے بعد ان کی دوسری خواہش ہوتی ہے کہ انہیں وائی فائی مل جائے۔

DW.COM

انٹر نیٹ کی بدولت یہ مہاجرین اپنے گھر والوں کو اپنی خیریت سے باخبر کرتے ہوئے اپنے آگے کے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ انسانوں کے اسمگلروں سے بھی رابطے میں رہتے ہیں کیونکہ انہیں یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ ان کا اگلا پڑاؤ کہاں ہو گا۔

عالمی بینک اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تارکین وطن کا پس منظر رکھنے والے افراد کی تعداد ڈھائی سو ملین ہے جبکہ ساٹھ ملین مہاجرین اپنے ملکوں کو خیرباد کہہ چکے ہیں یا وہ اپنے ہی ملکوں میں داخلی سطح پر بے گھر ہیں۔ ایسے افراد کی حقیقی تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

چند مطالعاتی رپورٹوں کے مطابق ساٹھ فیصد مہاجرین کے پاس موبائل فون ہیں، جو انٹرنیٹ تک رسائی کے قابل ہیں۔ مہاجرین کے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے اب نئے طریقے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ان میں انٹرنیٹ کے ذریعے کمیونیکیشن، معلومات تک رسائی، تعلیم اور صحت جیسے اہم امور کو ملحوظ رکھا جا رہا ہے۔

’مہاجرین موجد ہیں‘

برلن میں منعقد ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی ’ACT4 ریفیوجی کانفرنس‘ میں کچھ گروپوں نے مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو انتہائی اہم قرار دیا۔

جرمنی میں ترقیاتی امور کی وزارت سے وابستہ تھوماس زلبرہورن کے مطابق، ’’مہاجرین موجد ہیں۔ ہمیں ان کے بارے میں یہ سوچنا ترک کر دینا چاہیے کہ وہ معاشرے پر بوجھ ہیں۔‘‘

زلبرہورن کو یقین ہے کہ موبائل فون آج کے دور میں ایک امدادی کارکن کے طور پر مؤثر ہیں، جو معلومات اور صحت جیسے معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

مہاجرین موبائل فونز کا استعمال کیسے کر رہے ہیں، اس بارے میں بہتر معلومات جمع کرنے کی خاطر ان کی وزارت نے مختلف امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ایک مطالعاتی رپورٹ مرتب کی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مہاجرین ذرائع ابلاغ کے طور پر اپنے موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کی تیاری کے لیے رواں برس کے آغاز پر اردن، ترکی اور یونان میں موجود مہاجرین کے انٹرویو کیے گئے تھے۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ مہاجرین اس مقصد کی خاطر ’وٹس ایپ‘ اور ’فیس بک‘ کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ ان موبائل ایپس میں وائس میسجز اور میلز سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں کیونکہ اس کے لیے کسی کا خواندہ ہونا ضروری نہیں ہے۔

مسائل کا سامنا

ماہرین کا خیال ہے کہ اب بھی مہاجرین کو ڈیجیٹل طریقہ کار میں مسائل کا سامنا ہے اور اس لیے پروگرام ڈویلپرز کو مہاجرین کی حقیقی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے مزید آپشنز متعارف کرانا چاہییں۔

مثال کے طور پر دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات سے محروم مہاجرین کا اسکائپ پر ڈاکٹر سے براہ راست رابطہ علاج کا ایک بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی کے پاس یہ سہولت نہیں تو ایسی ایپس متعارف کرائی جا سکتی ہیں، جن میں بیماری کی علامات کے حوالے سے طبی مشورے درج ہوں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے مہاجرین کے تمام تر مسائل حل نہیں کیے جا سکتے لیکن نئے طریقہ کار کچھ پرانے مسائل کے حل میں معاون بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس پوری صورتحال میں مہاجرین کی انٹرنیٹ تک رسائی ضروری ہے، جو ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے۔

تمام مہاجر کیمپوں میں وائی فائی کی سہولت کی فراہمی بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ تاہم اگر ایسا ہو جائے تو مہاجرین کے اس بحران میں مہاجرین اور تارکین وطن کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

’عارضی سہی لیکن گھر تو ہے‘

Audios and videos on the topic