1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے مسائل، فن پاروں کے ذریعے آگاہی

چین کے معروف فنکار آئی وے وے نے کہا ہے کہ وہ مہاجرین کے بحران پر لوگوں میں شعور و آگاہی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ یونانی جزیرے لیسبوس پر ایک اسٹوڈیو بھی بنا چکے ہیں۔

چینی سیاسی منحرف اور عصر حاضر کے اہم فنکار آئی وے وے کے بقول وہ مہاجرین کے مسائل اور مشکلات کے حوالے سے عوامی سطح پر شعور و آگاہی کی ایک مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے فن پاروں کی مدد سے اس بحران سے جڑے ان تلخ اور مشکل لمحات کو منظر عام پر لانا چاہتے ہیں، جن کی وجہ سے مہاجرت اختیار کرنے والے افراد سخت پریشان اور الجھن کا شکار ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے آئی وے وے اور ان کے شاگردوں کی ایک ٹیم نے لیسبوس پر ایک اسٹوڈیو بھی بنا لیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ لیسبوس یونان کا ایک ایسا جزیرہ ہے، جو یورپ پہنچنے والے لاکھوں مہاجرین کی پہلی منزل ثابت ہوا ہے۔ کسی فنکار کی طرف سے اس طرح کا منصوبہ مہاجرین کے مصائب کو عالمی منظر نامے پر لانے کے حوالے سے ایک منفرد کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی وے وے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لیسبوس پر قائم کردہ اسٹوڈیو میں وہ خود اور ان کے شاگرد مہاجرین کے مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف منصوبے چلائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فنی اور تخلیقی کمالات سے ایسے حقائق عام کرنے کی کوشش کریں گے، جو کبھی کبھار انسان معمول کی زندگی بسر کرتے ہوئے نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔

آئی وے وے نے بتایا کہ بطور ایک فن کار وہ ہمیشہ ہی اپنے فن پاروں میں انسانیت کی بقاء کے لیے کی جانے والی کوششوں کا احاطہ کرتے رہے ہیں، ’’میں نے کبھی بھی ان مخصوص حالات کو اپنے فن سے جدا نہیں کیا۔‘‘

آئی وےوے نے کہا کہ وہ سن 2016 کے دوران اپنے اس منصوبے کے تحت کئی متعدد مرتبہ لیسبوس جائیں گے۔ اس چینی فنکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس منصوبے میں ان کے ہمراہ ان کے چینی اور جرمن شاگرد ان کا ساتھ نبھائیں گے۔ آئی وے وے نے کہا کہ ان شاگردوں کی تعداد چھ تا دس ہو گی۔

Deutschland Kassel Documenta Kunstwerk von Ai Weiwe eingestürzt

’سرحدیں دراصل ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ہوتی ہیں‘ وے وے

آئی وے وے نے مہاجرین کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’لیسبوس میں کوئی سرحد نہیں ہے، سرحدیں دراصل ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ہوتی ہیں۔‘‘ انہوں نے یونانی جزیرے لیسبوس میں مہاجرین کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ محدود وسائل کے باوجود مقامی حکومت اور عوام مہاجرین کا بھرپور طریقے سے استقبال اور خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں وہاں فعال غیر سرکاری اداروں کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔

آئی وے وے کے مطابق البتہ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں مہاجرین کی صورتحال اور ان کی مشکلات کے بارے میں شعور و آگاہی میں کمی پائی جاتی ہے، اسی لیے انہوں نے اس منصوبے کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔