1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے متشدد ہو جانے کا خطرہ، آسٹریا نے رکاوٹیں ہٹا دیں

جمعرات 22 اکتوبر کے روز آسٹریا پولیس نے سلووینیا کی سرحد پر مہاجرین کی مسلسل آمد کے باعث بڑھتے دباؤ اور ان کے متشدد ہو جانے کے خطرے کے پیش نظر عارضی طور پر رکاوٹیں ہٹا دیں۔

ہنگری کی حکومت نے سربیا کے بعد کروشیا کے ساتھ لگنے والی ملکی سرحد کو بند کر دیا تھا۔ جس کے بعد اب مہاجرین سلووینیا کے راستے، آسٹریا تک پہنچنےکی کوششوں میں ہیں، جس کے باعث آسٹریا کی سرحد پر مہاجرین کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہاجرین ہزاروں کی تعداد میں اس سرحد تک پہنچ چکے میں جب کہ مزید ہزاروں افراد اس سرحد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سرد موسم اور سفر کی تھکاوٹ کے مارے پناہ گزین جلد از جلد اپنی منزلوں پر پہنچا چاہ رہے ہیں۔ اسی لیے ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو رہا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورت حال آسٹریا اور سلووینیا کی سرحد پر واقع سپیلفلڈ نامی سرحدی گزرگاہ پر پیش آئی جہاں گزشتہ روز پناہ گزین، آسٹریائی پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو ہٹا کر آسٹریا میں داخل ہو گئے تھے۔ اس گزرگاہ پر آسٹریا نے مہاجرین کو وصول کرنے کا مرکز یا ’کولیکشن سینٹر‘ قائم کر رکھا ہے۔ پناہ گزینوں کی بے صبری اور غصے کو دیکھتے ہوئے آسٹریائی پولیس نے آج سرحد کھول دی، جس کے بعد سینکڑوں مہاجرین آسٹریا میں داخل ہو گئے۔

آسٹریائی پولیس کے مطابق انہوں نے یہ قدم مہاجرین کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ گزشتہ روز کے واقعے میں ملوث چند لوگ پولیس کی ہدایات پر عمل کرتے دوبارہ منظم ہو گئے، لیکن مہاجرین کی اکثریت احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئےآگے چلی گئی۔

سلووینیا کی حدود میں ایک ہزار سے زائد مہاجرین کھلے آسمان تلے آسٹریا میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔ ان میں سے کچھ آسٹریا میں پناہ کی درخواست دینا چاہتے ہیں اور کچھ آسٹریا سے گزر کر جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

ادھر کروشیا اور سربیا کے مابین سرحد بھی خاردار تاریں لگا کر بند کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ایک اہلکار نکلاس سٹوئروپ ایگیروپ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران کروشیا میں داخل ہونے والے مہاجرین میں ایسے خاندانوں کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے جن کے ساتھ پانچ سال یا اس سے کم عمر کے بچے سفر کر رہے ہیں۔

جمعرات ہی کے روز سربیا اور کروشیا کی سرحد پر پناہ گزینوں کا ایک ایسا گروہ بھی دکھائی دیا جو کھلے آسمان تلے سردی کی شدت سے بچنے کے لیے آگ جلا کر بیٹھا ہوا تھا۔ ان میں تینتالیس سالہ عبدالفضل بھی شامل ہیں، جو فلسطین سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سفری مشکلات اور موسم کی شدت کے باعث سب سے زیادہ خطرہ کم عمر بچوں کو درپیش ہے۔ فضل کا کہنا تھا،’’ہم یہاں ایک دو دن بغیر کچھ کھائے پیے رک سکتے ہیں۔کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن بچوں کا کیا ہو گا، انہیں تو دودھ چاہیے، کپڑے چاہییں، یہ بچے کیا کریں؟‘‘

Karte Balkan Fluchtroute 20.10.2015 Englisch

ہنگری کی سربیا اور کروشیا کے ساتھ سرحد کو بند ہونے کے بعد اب مہاجرین سلووینیا کے راستے، آسٹریا تک پہنچنےکی کوششوں میں ہیں

کروشیا کی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق جمعرات کی شب 1277 مہاجرین کروشیا کی حدود میں داخل ہوئے جب کہ بدھ کے روز سلووینیا میں داخل ہونے والے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد 12,616رہی۔ سلووینیا کے حکام کے مطابق ان کا ملک ہر روز صرف پچیس سو مہاجرین کوسنبھال سکتا ہے۔ سلووینیا نے کروشیا پر زیادہ مہاجرین کو ان کی حدود میں بھیجنے کا الزام لگایا ہے۔

یورپی یونین پیپلز پارٹی کی ہسپانوی شہر میڈرڈ میں منعقدہ کانگریس میں مہاجرین کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جانے پر زور دیا گیا۔ کانگریس میں منظور کی گئی ’ہنگامی قرارداد‘ میں یہ مطالبہ کیا گیا، ’’پناہ کی درخواست دینا ہر اس شخص کا حق ہے جسے خطرہ درپیش ہے، ہمیں ان کے حق کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘ اسی قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جو لوگ پناہ کے مستحق نہیں ہیں انہیں آبائی ممالک میں واپس بھیجنے کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔

DW.COM