1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے مبینہ فراڈ، تفتیش کے لیے خصوصی کمیشن کا قیام

شمالی جرمنی میں مہاجرین کی جانب سے مالی فراڈ کے مبینہ واقعات کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔ اس فراڈ کا حجم کئی ملین یورو تک ہو سکتا ہے۔

شمالی جرمن شہر براؤن شوائگ کی شہری انتظامیہ نے مہاجرین کی جانب سے مبینہ مالی دھوکہ دہی کے واقعات سامنے آنے پر ایک خصوصی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیشن اِس مبینہ فراڈ کی ہیت اور حجم طے کرے گا۔ اس کے علاوہ کمیشن تادیبی اقدامات بھی تجویز کر سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دھوکہ دہی کے مرتکب مہاجرین کو فوجداری مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑے۔

ژورٴن میمینگا کو اس تفتیشی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ میمینگا نے کمیشن کی سربراہی سنبھالنے کے بعد رپورٹرز کو اپنے ابتدائی اندازہ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مالی فراڈ کے تین سو کیسز سامنے آئے ہیں اور  اِس کا حجم کئی ملین یورو ہو سکتا ہے۔

جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی جانب سے کیے گئے مالی فراڈ کو جرمن ٹیلی وژن این ڈی آر نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا۔ این ڈی آر ٹیلی وژن کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھی یہ کئی ملین کا فراڈ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ مہاجرین  نے مختلف شہروں کے رجسٹریشن مراکز پر مختلف ناموں کے ساتھ اندراج کرایا اور اس طرح وہ مختلف مراکز سے مختلف شناختی ناموں کے ساتھ امدادی رقوم وصول کرتے رہے۔

UNICEF Mazedonien Flüchtlinge (UNICEF/UN012725/Georgiev)

جرمنی سے بےشمار افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنانے کی کارروائی جاری ہے

میمینگا نے بتایا کہ جن مہاجرین پر شک کیا گیا ہے، وہ تین یا چار ناموں کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ان مہاجرین نے ایک مرکز پر اندراج کے وقت اگر داڑھی رکھی ہوئی تھی تو دوسرے مقام پر عینک لگا رکھی ہے۔ اسی طرح کبھی بال لمبے ہیں تو کسی مقام پر وہی شخص سر کے چھوٹے بالوں کے ساتھ اندراج کرانے میں کامیاب رہا ہے۔

میمینگا کا خیال ہے کہ مہاجرین کوایسا کرنے میں کامیابی اُس وقت حاصل کی جب ایک ایک دن میں دو دو ہزار مہاجرین کی رجسٹریشن کی جاتی تھی اور اس نے سرکاری ملازمین کو تھکا دیا تھا۔ میمینگا کے مطابق ایک مہاجر نے بارہ مختلف شناختوں کے ساتھ خود کو رجسٹر کروایا اور وہ پینتالیس ہزار یورو سے زائد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تفتیشی کمیشن کے سربراہ کے مطابق تھکے ہوئے سرکاری ملازمین کو یہ مہاجرین دھوکا دینے میں کامیاب رہے۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق سوڈان اور دوسرے افریقی ملکوں سے خیال کیا گیا ہے۔