1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے لیے سرحدیں بند نہیں کریں گے، اطالوی وزیر اعظم

اطالوی وزیر اعظم نے ہمسایہ ممالک کے ایسے مطالبات رد کر دیے ہیں کہ وہ مہاجرین کی آمد روکنے کی خاطر اپنی قومی سرحدوں کو بند کر دیں۔ رواں برس شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اطالوی وزیر اعظم پاؤلو جینٹیلونی کے حوالے سے بتایا ہے کہ روم حکومت مہاجرین کے بحران کے تناظر میں ہمسایہ ممالک کی طرف سے دی جانے والی ’دھمکیوں‘ کو قبول نہیں کرتی ہے۔ متعدد یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اس براعظم کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر مہاجرین کے بہاؤ کا سلسلہ روکنا ہو گا۔

مسلم مہاجرین کا داخلہ روکے رکھیں گے، ہنگری کے وزیراعظم

’مہاجرین کو متبادل سفری دستاویزات کے ذریعے ملک بدر کیا جائے‘

مہاجرین کو روکنے کی خاطر مہاجرت مخالف گروپ بھی سمندر میں

بائیس جولائی بروز جمعہ پاؤلو جینٹیلونی نے واضح کیا کہ مہاجرین کے بحران کے معاملے پر اٹلی اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے گا اور وہ ہمسایہ ممالک اور دیگر یورپی ممالک سے توقع کرتا ہے کہ وہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار مؤثر طریقے سے نبھائیں گے۔

ویڈیو دیکھیے 01:11

بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے خوفناک مناظر

قبل ازیں ہمسایہ ممالک نے اٹلی پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی قومی سرحدوں کو بند کر دے تاکہ بحیرہ روم کے ذریعے شمالی افریقہ سے اطالوی جزائر پر پہنچنے والے افریقی تارکین وطن اور مہاجرین کا راستہ روکا جا سکے۔

آسٹریا کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی اٹلی کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ سمندری راستوں کی نگرانی نہیں بڑھاتا تو ویانا حکومت سرحدوں پر فوجی دستے تعینات کر دے گی۔

اس پیشرفت پر اطالوی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ویانا میں تعینات آسٹریائی سفیر کو طلب کر کے احتجاج بھی کیا تھا۔

ہنگری، آسڑیا، پولینڈ، سلوواکیہ اور چیک ری پبلک سمیت وسطی یورپ کے کئی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ مہاجرین جب شینگن زون میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر وہ شینگن زون کے کسی ملک بھی جا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس جولائی کے مہینے تک بحیرہ روم کے خطرناک پانیوں سے گزر کر کم ازکم ایک لاکھ افریقی مہاجرین و تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ اس کوشش میں تقریبا دو ہزار تین سو ساٹھ افراد سمندر برد بھی ہو چکے ہیں۔

رواں برس یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن میں سے پچاسی فیصد اٹلی میں موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق شورش زدہ ملک لیبیا سے ہے۔

اٹلی کا کہنا ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی ان مہاجرین کو اپنے اپنے ممالک میں آباد کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں تاہم بالخصوص ہنگری، پولینڈ اور چیک ری پبلک ان مہاجرین کو اپنے ممالک میں پناہ نہ دینے کے بارے میں کھل کا اظہار کر چکے ہیں۔

یہ ممالک مسلم مہاجرین کو اپنے ’یورپی کلچر‘ کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ’نئے، مکسڈ مسلمائزڈ یورپ‘ کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic