مہاجرین کے ساتھ ’برا سلوک‘، ایمنسٹی کی ہنگری پر تنقید | مہاجرین کا بحران | DW | 27.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے ساتھ ’برا سلوک‘، ایمنسٹی کی ہنگری پر تنقید

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہنگری میں مہاجرین کے ساتھ ناروا سلوک پر تنقید کی ہے۔ ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان مہاجرین مخالف بیانات دیتے آئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہنگری کی دائیں بازو کی حکومت پر سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ ’دانستہ طور پر‘ ناروا سلوک روا رکھنےکا الزام عائد کیا ہے۔ ایمنسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اوربان حکومت عوام میں مہاجرین سے متعلق خوف پیدا کر کے مہاجرین کی تقسیم سے متعلق یورپی اسکیم پر ہونے والے ریفرنڈم میں اس کے خلاف ووٹ کے حق میں عوامی رائے تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کی اس بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس ریفرنڈم میں زہریلی مہم کے ذریعے مہاجرین مخالف بیانات کا استعمال کر رہی ہے، جس سے عوام میں مہاجرین کے حوالے سے خوف بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگری کے حکام نے مختلف غیر قانونی حراستی مراکز میں قید سینکڑوں مہاجرین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور حالیہ کچھ ماہ میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایمنسٹی نے یہ رپورٹ گزشتہ ماہ سربیا، ہنگری اور آسٹریا میں 129 مہاجرین سے انٹرویوز کی بنیاد پر مرتب کی ہے۔ واضح رہے کہ بلقان راستے کے ذریعے یورپی یونین کا رخ کرنے والے مہاجرین کے لیے یہ تین ممالک اہم رہے ہیں۔

Ungarn Grenze Türkei Besuch Orban Borisow (picture-alliance/dpa/V. Donev)

اوربان مہاجرین کے خلاف سخت بیانات دیتے آئے ہیں

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ہنگری اور سربیا کی سرحد پر ’ٹرانزٹ زونز‘ کہلانے والے علاقوں میں پھنسے مہاجرین کو ’لاتوں اور گھونسوں سے پیٹا گیا اور ان کے پیچھے کتے دوڑائے گئے اور بعد میں ہنگری کے سرحدی محافظوں نے انہیں دوبارہ سربیا بھیج دیا۔‘‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے ساتھ اس سلوک کی وجہ یہ تھی کہ ہنگری ان مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا چاہتا تھا اور اس سلسلے میں مہاجرین کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست کو ان کے میرٹ پر جانچنے کی کوشش تک نہیں کی گئی۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’وزیراعظم اوربان کے بیانات میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو ’زہر‘ قرار دیا جا رہا ہے اور اب یہ معاملہ نچلی سطح کے حکام تک پھیل چکا ہے، جس کا اثر مہاجرین کے مختلف مراکز میں مقامی حکام کے نہایت برے سلوک کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔