1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے روپ میں 60 جنگجو جرمنی پہنچے، رپورٹ

جرمن میڈیا نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم ساٹھ جنگجو مہاجرین کے روپ میں جرمنی پہنچے۔ ملکی سکیورٹی اداروں کی ان مشتبہ سابق جنگجوؤں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

جرمنی کے مؤقر ہفت روزہ جریدے ڈئر اشپیگل نے آج ہفتہ دو ستمبر کے روز اپنی ایک رپورٹ میں ملکی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم ساٹھ شامی جنگجو مہاجرین کے روپ میں جرمنی پہنچنے میں کامیاب رہے۔

ہزاروں ‘افغان طالبان جنگجو‘ جرمنی میں پناہ کے متلاشی

وہ جرمن شہر، جہاں مہاجرین کو گھر بھی ملتا ہے اور روزگار بھی

نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ ان مشتبہ جنگجوؤں کا تعلق شام میں سرگرم ’اویس القرنی بریگیڈ‘ سے ہے۔ شامی خانہ جنگی میں یہ گروہ ’فری سیریئن آرمی‘ کے ساتھ مل کر اسد حکومت کے خلاف لڑتا رہا تھا تاہم بعد ازاں اس گروہ نے شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

القاعدہ کے قریب تصور کیے جانے والے ’النصرہ فرنٹ‘ نے رواں برس جولائی کے اواخر میں اپنا نام تبدیل کرتے ہوئے ’جبھة الفتح الشام‘ رکھ لیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نام کی تبدیلی کے بعد اس گروہ نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط مبینہ طور پر ختم کر دیے ہیں۔

ڈئر اشپیگل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مہاجرین کے روپ میں جرمنی پہنچنے والے ان جنگجوؤں نے شامی خانہ جنگی کے دوران ’شامی فوجیوں اور عام شہریوں کے قتل عام کے کئی واقعات‘ میں حصہ لیا تھا۔

جرمن سکیورٹی ادارے ایسے پچیس سابق جنگجوؤں کی شناخت کے بعد اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم رپورٹوں کے مطابق اس گروہ کے کم از کم تیس یا اس سے بھی زیادہ جنگجو ایسے بھی ہیں، جن کی شناخت اور ملک میں موجودگی کے مقام کے بارے میں ابھی تک جرمن سکیورٹی اداروں کو کوئی معلومات نہیں ہیں۔

جرمن خفیہ اداروں نے اس معاملے کی تحقیقات اور ان مبینہ شدت پسند جنگجوؤں کی شناخت کے لیے ایک خصوصی مشترکہ ٹیم بھی تشکیل دے رکھی ہے۔

’مہاجرین کو جرمن سرحدوں سے لوٹایا جا سکتا ہے‘

ویڈیو دیکھیے 02:14

داعش میں بھرتیوں کے خلاف سرگرم جرمن ’میونسپل مائیں‘

DW.COM

Audios and videos on the topic