1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرین کے خلاف نفرت انگیزی، پیگیڈا کے بانی کو سزا ہو گئی

جرمنی میں مہاجرین، تارکین وطن اور مسلمانوں کی مخالفت کرنے والی تحریک پیگیڈا کے بانی لُٹس باخمان کو ایک مقامی عدالت نے اپنے فیصلے میں عام لوگوں کو اجانب دشمنی اور نفرت پر اکسانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنا دی ہے۔

PEGIDA-Demonstration in Dresden

ڈریسڈن میں پیگیڈا کے ایک احتجاجی مظاہرے کے شرکاء ’یورپ میں شریعت‘ کو مسترد کرتے ہوئے

جرمنی کے مشرقی شہر ڈریسڈن سے منگل تین مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ فیصلہ ڈریسڈن ہی کی ایک عدالت نے آج سنایا اور باخمان کو مہاجرین سے متعلق توہین آمیز بیانات دینے پر مجرم قرار دے دیا۔

لُٹس باخمان کی عمر 43 برس ہے اور عدالت نے انہیں قریب دس ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ کا مطالبہ تھا کہ ملزم باخمان کو سات ماہ کی سزائے قید کا حکم سنایا جائے جبکہ وکیل صفائی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزم کو بری کر دیا جائے۔ تاہم عدالت نے پیگیڈا کے بانی کو 9600 یورو جرمانے کی سزا سنائی۔

اس مقدمے میں لگائے گئے اور عدالت میں درست ثابت ہو جانے والے الزامات کے مطابق لُٹس باخمان نے ستمبر 2014 میں اپنے فیس بک پیج پر مہاجرین اور جرمنی میں سیاسی پناہ کے خواہش مند غیر ملکیوں کے بارے میں اظہار رائے کرتے ہوئے انہیں ’کچرا‘، ’ڈھور ڈنگر‘ اور ’کوڑے کا ڈھیر‘ قرار دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اس طرح کی رائے کا اظہار کر کے پیگیڈا (Pegida) تحریک کے بانی عام لوگوں کو مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف نفرت پر اکسانے کے مرتکب ہوئے تھے۔ وکیل صفائی کی رائے میں یہ مقدمہ ایک ایسی شخصیت نے دائر کیا تھا، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

Deutschland Pegida-Gründer Lutz Bachmann auf dem Weg in den Gerichtssaal

لُٹس باخمان فیصلے سے قبل تین مئی کے روز کمرہء عدالت کی طرف جاتے ہوئے

لُٹس باخمان کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ جرمن باشندہ ماضی میں منشیات کی تجارت، چوری اور کسی کو جسمانی طور پر زخمی کرنے جیسے جرائم کا مرتکب ہونے کی وجہ سے بھی سزائیں پا چکا ہے۔

باخمان نے اکتوبر 2014 میں پیگیڈا تحریک کی بنیاد رکھی تھی اور تب سے اس تحریک کے حامی ارکان ڈریسڈن میں تقریباﹰ ہر ہفتے احتجاجی مارچ کرتے ہیں اور مسلمانوں اور مہاجرین کے ساتھ ساتھ جرمن سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کے خلاف سوچ کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

DW.COM