1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے حوالے سے ترکی اور يورپی يونين کی ڈيل: رپورٹ آج متوقع

يورپی کميشن کی جانب سے بلاک کے ترکی کے ساتھ معاہدے کی پيش رفت پر رپورٹ آج جاری کی جا رہی ہے۔ پناہ گزينوں کی ترکی کے راستے يورپ آمد روکنے کے ليے يورپی يونين اور ترکی کے مابين رواں برس مارچ ميں يہ ڈيل طے پائی تھی۔

مارچ سن 2016 ميں طے پانے والے معاہدے کی شرائط کے مطابق انقرہ حکومت نے ڈيل پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد ترکی کے راستے يونانی جزائر پر پہنچنے والے غير قانونی تارکين وطن کو واپس لينے کی حامی بھری تھی۔ اس کے بدلے يورپی بلاک نے انقرہ کی مالی امداد کے علاوہ ترکی ميں مہاجر کيمپوں ميں مقيم پناہ گزينوں کو قانونی طريقے سے يورپ منتقل کرنے کا بھی کہا تھا۔

معاہدے کی شرائط پر عمل در آمد میں پیشرفت کے حوالے سے آج چوتھی رپورٹ جاری کی جا رہی ہے۔ قبل ازيں ستمبر ميں جاری کردہ تيسری رپورٹ ميں کہا گيا تھا کہ تاحال يونان سے کسی بھی تارک وطن کو جبری طور پر واپس ترکی نہيں بھيجا گيا۔ يہ امر اہم ہے کہ پناہ گزينوں کو يہ حق حاصل ہے کہ ترکی واپسی يا ملک بدری سے قبل وہ يونان ميں سياسی پناہ کی درخواست دے سکیں اور منفی جواب ملنے کی ممکنہ صورت ميں اس کے خلاف اپيل بھی دائر کر سکيں۔ تاہم يونان ميں اندراج کے مراکز پر عملے کی کمی کے سبب يہ مرحلہ کافی تاخير کا شکار ہے۔

دريں اثناء مختلف يونانی جزائر اور شہروں ميں اس وقت بھی قريب باسٹھ ہزار پناہ گزين اور تارکين وطن پھنسے ہوئے ہيں۔ ابھی پچھلے ہی ہفتے مہاجرت سے متعلق امور سے نمٹنے والی يونانی وزارت کی جانب سے مطلع کيا گيا تھا کہ ليسبوس، کوس، خيوس، ساموس اور ليروس کے جزائر پر اب بھی 16,400 پناہ گزين سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرانے کے منتظر ہيں۔