1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے بحران میں ’ایماندار ثالث‘ ہوں گے، سلوواک وزیر اعظم

سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے صدر ملک کا دفتر سنبھالنے کے بعد براٹسلاوا حکومت مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے ایماندانہ کوششیں کرے گی۔ رابرٹ فیکو کی حکومت مہاجرین مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین کے صدر ملک کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ان کی حکومت امیگریشن کے خلاف اپنی سخت پالیسیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یورپ کو درپیش مہاجرین کے سنگین بحران کے حل کے لیے ایماندارانہ کوششیں کرے گی۔ سلوواکیہ رواں برس کے دوران ہی ششماہی بنیادوں پر یورپی یونین کے صدر ملک ہونے کا اعزاز حاصل کرے گا۔

بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے رابرٹ فیکو رواں برس مارچ میں تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی کہا تھا کہ سلوواکیہ میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے اس بیان کو دراصل ان کے الیکشن مہم کے دوران مہاجرت مخالف بیانات کی ایک توسیع قرار دیا جا رہا ہے۔

رابرٹ فیکو نے بدھ کے دن برسلز میں ایک نشریاتی پریس کانفرنس میں کہا، ’’ہم اپنی قومی پالیسی میں تبدیلی نہیں کریں گے لیکن بطور یورپی یونین کے صدر ملک ہم اس معاملے کو نہیں اٹھائیں گے۔ ہم ایک ایماندار ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ممکنہ سمجھوتوں پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ اس پریس کانفرنس کی کارروائی یورپی کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی براہ راست نشر کی گئی۔

فیکوکے مطابق وہ شینگن زون میں ویزہ فری انٹری کی بحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کے لیے یورپی ملکوں کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی مؤثر اور سخت بنائی جانی چاہیے۔ یہ بات اہم ہے کہ مہاجرین کے موجودہ بحران کی وجہ سے ویزہ فری شینگن زون کے رکن کئی ممالک نے اپنی سرحدوں پر چیکنگ کا نظام پھر سے متعارف کرا دیا ہے۔

فیکو کی گزشتہ حکومت نے یورپی یونین کے اُس منصوبے کے خلاف یورپی عدالت برائے انصاف سے بھی رجوع کیا تھا، جس کے تحت ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو اس بلاک کے مختلف ممالک میں ایک کوٹے کے تحت آباد کرنے کی بات کی گئی تھی۔

Brüssel EU Gipfel Ankunft Robert Fico

سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو کی حکومت مہاجرین مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے

رابرٹ فیکو یورپی کمیشن کے اس منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں، جس کے تحت یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے قواعد و ضوابط میں اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مجوزہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن اٹھائیس ممالک میں مہاجرین کی آبادکاری کا مخصوص کوٹہ مختص کیا جائے اور اگر کوئی ملک مہاجرین کو پناہ دینے سے انکار کرتا ہے تو وہ ہر مہاجر کے عوض ڈھائی لاکھ یورو ادا کرے۔

سلوواکیہ میں چند ہزار نفوس پر مشتمل مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت آباد ہے۔ گزشتہ برس اس ملک میں کچھ سو شامی مہاجرین نے ہی پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی۔ ناقدین کے مطابق براٹسلاوا کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے مہاجرین اس ملک میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش سے کتراتے ہیں۔