1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے بحران سے نمٹ لیں گے، میرکل کا سالِ نو کا پیغام

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے نئے سال کے پیغام میں کہا ہے کہ مہاجرین کی آمد ملکی اقتصادیات میں بہتری کے علاوہ معاشرتی سطح پر بھی فائدہ مند ہو گی۔ وہ پُرامید ہیں کہ جرمنی اس بحران سے بخوبی نمٹ سکتا ہے۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel Neujahrsansprache

میرکل کا کہنا ہے کہ مسائل کا ہمت سے سامنا کرنے سے ہی مضبوطی پیدا ہوتی ہے

وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے اکتیس دسمبر کو جرمن عوام کے نام نئے سال کے اپنے روایتی پیغام میں اعتراف کیا کہ مہاجرین کے جرمن معاشرے میں انضمام کے لیے وقت درکار ہو گا اور اس کے لیے ہمت اور رقوم بھی چاہیے ہوں گی لیکن جرمنی اتنا مضبوط ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹ لے گا۔

DW.COM

میرکل نے ملک میں بے روزگاری کی کم شرح اور بڑھتی ہوئی اجرتوں کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کے بہتر انضمام کے نتیجے میں ملک کو ہر حوالے سے فائدہ ہی ہو گا۔ انہوں نے جرمن عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران میں متحد رہیں اور حوصلے کا مظاہرہ کریں۔

مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ خطوں سے مہاجرت اختیار کرنے والے زیادہ تر مسلمان ہیں، جو بہتر زندگی اور پرسکون مستقبل کے لیے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کی آمد کی وجہ سے یورپ کو ایک شدید بحران کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے یورپی یونین کے رہنماؤں کے مابین بھی اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آخر اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔

اپنے قدامت پسند حکومتی اتحاد کی طرف سے داخلی تنقید کے باوجود انگیلا میرکل اپنے موقف پربرقرار ہیں کہ جرمنی اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کر نکلے گا۔

انگیلا میرکل نے اپنے عوامی پیغام میں کہا کہ اگر مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے درست اقدامات کیے جاتے ہیں تو یہ بحران مستقبل کے لیے بہتر مواقع میں تبدیل ہو جائے گا، ’’یہ حقیقیت ہے کہ ہمیں ایک مشکل وقت کا سامنا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم سرخرو ہو جائیں گے کیونکہ جرمنی ایک مضبوط ملک ہے۔‘‘

سن 2015 کے دوران جرمنی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے زائد ہو چکی ہے۔ یورپ کے کسی ملک میں بھی مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نہیں پہنچی۔

انگیلا میرکل یورپ کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں، جو ان مہاجرین کی یورپ آمد کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ قدامت پسند سیاستدان میرکل کا کہنا ہے کہ یہ جرمنی کا فرض ہے کہ وہ تنازعات اور مظالم سے فرار ہونے والے افراد کی مدد کرے۔

دیگر کئی معاملات پر جرمن چانسلر میرکل کے قائدانہ موقف کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے ان کی حکمت عملی کی وجہ سے ہی ٹائم میگزین نے انہیں اس سال کی ’پرسن آف دا ایئر‘ یا ’سال کی سب سے اہم عالمی شخصیت‘ قرار دیا تھا۔ تاہم داخلی سطح پر مہاجرین کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے انتظامی مسائل کے باعث کئی حلقے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

Passau Deutschland Migranten Bahnhof

مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کی آمد کی وجہ سے یورپ کو ایک شدید بحران کا سامنا ہے

تاہم میرکل کا کہنا ہے کہ مسائل کا ہمت سے سامنا کرنے سے ہی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ اپنے نئے سال کے پیغام میں انہوں نے اپنے اس موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی جرمنی کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہمیشہ جرمنی کامیاب ہی رہا۔

اس مخصوص حوالے سے میرکل نے جرمنی کے اتحاد کی مثال بھی دی۔ میرکل نے زور دیا کہ اہم بات یہ ہے کہ جرمن عوام کسی حوالے سے بھی تقسیم نہ ہو بلکہ متحد رہیں۔