1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے باعث جرمنی کی آبادی میں ریکارڈ اضافہ

جرمنی کی آبادی میں گزشتہ پندرہ برسوں بعد پہلی مرتبہ سن دو ہزار پندرہ میں سب سے زیادہ اضافہ نوٹ کیا گیا۔ اس اضافے کی وجہ گزشتہ برس جرمنی میں بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد بنی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے چھبیس اگست بروز جمعہ جرمن حکام کے حوالے سے بتایا کہ سن دو ہزار پندرہ میں جرمنی کی مجموعی آبادی میں سالانہ بنیادوں پر پچھلے پندرہ برسوں کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہوا۔ وفاقی شماریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ برس جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد 1,139,000 رہی، جو سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں دگنی تھی۔ گزشتہ برس جرمنی میں ایک ملین سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔

DW.COM

یہ امر اہم ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجر دوست پالیسی اور یورپ کے اس امیر ملک میں سماجی مراعات کے باعث زیادہ تر مہاجرین اور تارکین وطن کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح جرمنی پہنچ جائیں۔ ان مہاجرین میں تنازعات کے شکار ممالک شام، عراق اور افغانستان کے علاوہ دیگر ممالک اور براعظم افریقہ سے ہجرت کر کے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔

گزشتہ برس برلن حکومت نے مہاجرین کے لیے فراخدلانہ پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کا عوام نے بھی ساتھ دیا تھا۔ تاہم بعد میں جرمنی میں پرتشدد واقعات کی وجہ سے بہت سے جرمن شہری اب تک میرکل کی مہاجر دوست پالیسی پر شکوک و شبہات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود جرمن چانسلر انگیلا میرکل مصر ہیں کہ برلن حکومت ملک کو درپیش اس بحران پر قابو پا لے گی۔

جرمنی میں وفاقی پارلیمانی الیکشن آئندہ برس ہوں گے۔ اس تناظر میں متعدد جرمن سیاستدانوں نے کہا ہے کہ مہاجرین کی آمد کی وجہ سے جاب مارکیٹ کو سہارا ملے گا کیونکہ جرمنی میں عمر رسیدگی کا شکار ہوتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ملازمتوں کے بہت سے مواقع موجود ہیں، جن کا پُر ہونا جرمنی کی بہتر اقتصادیات کے لیے ضروری ہے۔

دوسری طرف ایک حلقے کا یہ خیال بھی ہے کہ جرمنی آنے والے زیادہ تر مہاجرین نہ صرف جرمن زبان سے ناواقف ہیں بلکہ انہیں ملکی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے تربیت بھی دینا پڑی گی۔ ایسے حلقوں کے مطابق مہاجرین کو جاب مارکیٹ کا حصہ بنانے کے لیے جرمنی پر اضافی بوجھ پڑے گا اور اس کے لیے کئی سال درکار ہوں گے۔

سن دو ہزار پندرہ میں جرمنی میں ایک لاکھ اٹھاسی ہزار سے زائد افراد کا انتقال ہوا تھا۔ یہ شرح جرمنی میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم اس کے باوجود گزشتہ برس جرمنی کی مجموعی آبادی میں اضافہ 978,000 ریکارڈ کیا گیا، جو سن انیس سو بانوے کے بعد پہلی مرتبہ ایک صحت مند اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سن دو ہزار چودہ میں جرمنی کی آبادی 82.2 ملین ریکارڈ کی گئی تھی۔

Südosten der Türkei Gaziantep Provinz Flüchtlingslager

گزشتہ برس جرمنی میں ایک ملین سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر 1.1 ملین مہاجرین جرمنی میں پناہ کی غرض سے داخل ہوئے تھے، جن میں سے چار لاکھ اسی ہزار باقاعدہ طور پر درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔ جرمنی میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے ان کی رجسٹریشن میں بھی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

جرمن حکومت نے ملک میں آنے والے مہاجرین کو ایک نظام کے تحت تمام صوبوں میں تقسیم کیا ہے، جس کے باعث جرمنی کے تمام یعنی سولہ کے سولہ صوبوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ دو ہزار پندرہ کے اختتام تک 8.7 ملین غیر ملکی ورکرز جرمنی میں مقیم تھے۔ یہ تعداد سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں چودہ فیصد زائد بنتی ہے۔