1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے باعث جرمنی، سویڈن میں بستر ختم ہو گئے

فرنیچر کی ریٹیل مارکیٹوں کے دنیا کے سب سے بڑے سلسلے اِکیا کے مطابق بہت بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کے باعث جرمنی اور سویڈن میں اس کمپنی کے سٹورز میں تمام بستر فروخت ہو گئے ہیں اور اضافی سپلائی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اِکیا (Ikea) سویڈن کی ایک فرنیچر کمپنی ہے، جو اس شعبے میں صارفین کو براہ راست اپنی مصنوعات بیچنے والی نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی ریٹیلر کمپنی ہے بلکہ جرمنی عالمی سطح پر اس ادارے کے لیے سب سے بڑی منڈی بھی ہے۔

سٹاک ہوم میں اِکیا گروپ کی ترجمان جوزیفین تھورَیل نے اے ایف پی کو بتایا، ’’یورپ میں مہاجرین کی آمد کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال میں جرمنی اور سویڈن میں ہمارے بہت سے سٹورز میں تمام تیار بستر اور فوم کے گدے فروخت ہو چکے ہیں اور بہت زیادہ طلب کی وجہ سے ہمیں ان مصنوعات کی قلت کا سامنا ہے۔‘‘

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جوزیفین تھورَیل نے کہا، ’’عام حالات میں بھی ہمیں کبھی کبھار اپنی مصنوعات کی ناکافی دستیابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس وقت تو ہمیں ڈرامائی حد تک کمی کا سامنا ہے۔‘‘

اس سویڈش کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ جرمنی اور سویڈن میں اس کے کتنے سٹورز کو بستروں اور بستروں کے طور پر استعمال ہونے والے فوم کے گدوں کی کمی درپیش ہے۔ تاہم اِکیا سویڈن کے خاتون ترجمان دانیئلا روگوسِچ نے کہا، ’’ہم مصنوعات کی اضافی اور تیز رفتار ترسیل کے لیے ان اداروں سے بات چیت کر رہے ہیں، جو ہمارے لیے سپلائی کا کام کرتے ہیں۔‘‘

جرمنی اور سویڈن ان یورپی ملکوں میں سرفہرست ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے مسلح تنازعات اور مشکل حالات زندگی سے تنگ آ کر یورپ کا رخ کرنے والے لاکھوں مہاجرین سیاسی پناہ گزینوں کے طور پر آباد ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ سال رواں کے دوران زمینی اور سمندری راستوں سے اب تک ایسے لاکھوں مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن یورپ پہنچ چکے ہیں۔

Österreich Grenze Slowenien Flüchtlinge Zaun

جرمن حکام کا اندازہ ہے کہ اس سال جرمنی پہنچنے والے ایسے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تعداد ایک ملین تک پہنچ جائے گی

جرمن حکام کا اندازہ ہے کہ اس سال جرمنی پہنچنے والے ایسے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تعداد ایک ملین تک پہنچ جائے گی۔ اسی طرح جمعرات پانچ نومبر کے روز سٹاک ہوم میں سویڈش حکومت کی طرف سے بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ وہ اب اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ سویڈن پہنچنے والے نئے تارکین وطن میں سے ہر کسی کوئی چھت مہیا کی جا سکے گی۔