1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کے بارے میں سخت یورپ پالیسیوں پر بان کی مون کی تنقید

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون نے مہاجرين کے بحران کے حوالے سے يورپ ميں اپنائی جانے والے پابنديوں پر مبنی پاليسيوں پر کڑی تنقد کی ہے۔

بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ آسٹريا اور يورپ کے ديگر ممالک ميں غیر ملکیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پر خاصے فکر مند ہيں۔ یہ باتیں انہوں نے آسٹريا کی پارليمان سے آج کیے گئے اپنے خطاب کے دوران کہيں۔ اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل نے کہا، ’’ميں اس سبب پريشانی کا شکار ہوں کہ يورپی ممالک ہجرت اور تارکين وطن کے حوالے سے تنگ نظر اور پابنديوں پر مبنی پاليسياں اختيار کر رہے ہيں۔‘‘ ان کے بقول ايسی پاليسياں انسانی حقوق کے حوالے سے بين الاقوامی اور يورپی ذمہ داريوں پر پورا نہيں اترتيں۔

بان کی مون نے يہ بيان ايک ايسے وقت ديا، جب ايک روز قبل ہی آسٹرين پارليمان نے سياسی پناہ کے حوالے سے يورپی سطح پر سخت ترين قوانين کی منظوری دی۔ اس يورپی ملک ميں چوبيس اپريل کو منعقدہ صدارتی اليکشن کے پہلے مرحلے ميں دائيں بازو کی جماعت ابھر کر سامنے آئی اور اس کی عوامی مقبوليت ميں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ’فريڈم پارٹی‘ کے اميدوار اب بائيس مئی کو ہونے والے انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے ميں شريک ہوں گے۔

آسٹريا ميں گزشتہ برس تقريباً نوے ہزار سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرائی گئيں۔ پناہ گزينوں کی اتنی بڑی تعداد ميں آمد کے نتيجے ميں وہاں دائيں بازو کی قوتوں نے زور پکڑا ہے اور ان کی مقبوليت ميں دن بدن بڑھتے ہوئے اضافے کو محدود رکھنے کے ليے حکومت نے مہاجرين کے بحران پر قابو پانے کے ليے بارڈر پر باڑ نصب کر دی، سياسی پناہ کی سالانہ حد مقرر کر دی اور بلقان خطے ميں موجود ممالک پر زور ڈالا کے وہ اپنی سرحديں بند کريں تاکہ مہاجرين آسٹريا تک نہ پہنچيں۔

اس بارے ميں بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ وہ آسٹريا کو درپيش داخلی چيلنجز کو سمجھتے ہيں ليکن اميد کرتے ہيں کہ آسٹريا مہاجرين کے حل کے ليے حقيقی معنوں ميں تعاون پر مبنی يورپی کوششوں کا حصہ بن سکے گا۔